فروری 5, 2023
ayesha qamar
عائشہ قمر کی ایک اردو تحریر

ایک ایسی سوچ جس نے مجھے میری ہی نظروں میں گرا دیا….! کچھ عرصہ قبل ایک خاتون سے ملاقات ہوئی ۔اب ان کے گھر کافی آنا جانا ہے۔ ان کو ہر معاملے میں بہت اچھا پایا ۔ پھر ایک دن یہ بات پتا چلی کہ ان کی تو طلاق ہوگئی تھی۔ اس پر فوراً میرے دماغ میں بات آئی یہ تو اتنی اچھی ہیں ان کی طلاق؟ کچھ سمجھ میں نہ آیا ۔لیکن ایک منٹ یہیں رک جائیے ۔ طلاق کا کسی کے اچھے یا برے ہونے سے کیا تعلق؟ جی تو یہ وہ سوچ تھی جو میں نے اپنے معاشرے سے حاصل کی تھی ۔ بد قسمتی سے ہمارے بزرگوں سے سنا تھا ۔ چلیں یہاں صرف عورتوں کی بات نہیں کرتے مردوں کی بھی کرتے ہیں۔ انسانوں کی بات کرتے ہیں۔ جس طرح میں نے رک کر ایک منٹ کو سوچا میں چاہتی ہوں باقی لوگ بھی سمجھیں ۔غلط تصورات سے باہر نکلیں۔صحیح بات جان سکیں ۔ تو اس لیے ایک منٹ کے لیے آپ بھی رک جائیں اور سوچیں کیا واقعی طلاق کا کسی کے اچھے اور برے ہونے سے تعلق ہے یا یہ صرف ہماری ایک غلط سوچ ہے جس کی اصلاح کی ضرورت ہے ۔ سچ تو یہی ہے کہ یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے جس کو اب دور کرنے کی ضرورت ہے ۔ آئیں سب مل کر کوشش کرتے ہیں ۔ اپنے اپنے حصے کا کام کرتے ہیں۔
دیکھیں پہلی بات تو یہ کہ یہ ایک رشتہ ہے اس کا کسی کے کردار سے تعلق نہیں ہے ۔ جس طرح باقی رشتے ہیں یہ بھی ایک رشتہ ہے لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہ خاص اہمیت کا حامل ہے
اللہ نے جب طلاق اور خلع کا حق دیا ہے تو ہمیں یہ بات سمجھ جانی چاہیے کہ جو ہمارا خالق ہے اس سے بہتر ہمیں کوئی نہیں جانتا اور جب اس نے یہ حق دے دیا ہے تو تعلق ٹوٹنے کا امکان موجود ہے تو پھر ہم کون ہوتے ہیں اس بنیاد پر لوگوں کو جج کرنے والے؟ اس کی شادی کامیاب ہے تو یہ ایک اچھا انسان ہے، ہو سکتا ہے وہ واقعی اچھا انسان ہو لیکن کیا پتا وہ صرف گھر والوں کے لیے اچھا ہو، وہ اپنے پیشے سے مخلص نہ ہو۔ اور ہو سکتا ہے کوئی ہر ممکن گناہ کرتا ہو لیکن اپنے گھر والوں پر ایک آنچ بھی نہ انے دیتا ہو۔ ہمیں کیا معلوم ۔ ہم تو دلوں کے حال سے واقف نہیں ہیں ۔ آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہونے کا حق تو صرف اللہ کو ہی حاصل ہے
تو پھر آئیں خود کی اور اپنے اردگرد موجود لوگوں کی اصلاح کرتے ہیں۔
جب رشتہ دار آپس میں قطع تعلق کر سکتے ہیں اگرچہ اس پر سخت وعید موجود ہے وعید بھی اس لیے موجود ہے نا کہ ایسا ہوتا ہے اسی طرح میاں بیوی کو علیحدگی کا حق حاصل ہونے کا بھی یہی مطلب ہے کہ ایسا ہوتا ہے۔ ہاں طلاق حلال ہے لیکن ناپسندیدہ ہے لیکن اللہ بہت رحیم ہے ۔ اس نے اپنے بندے کے لیے ہر طرف سے آسانی پیدا کی ہے ۔ اگر دو لوگوں کی ہر ممکن کوشش کے باوجود بھی آپس میں نہیں بن رہی تو وہ ساتھ رہ کر کس جرم کی سزا کاٹیں؟ اورصرف اپنی نہیں اگے اپنے بچوں کی زندگیاں بھی متاثر کریں ۔ اکثر ہمارے بڑے تو قربانی دے دیتے ہیں اپنی خوشیوں کی ایک ایسے تعلق کو بچانے کے لیے جو کبھی بنا ہی نہیں تھا لیکن اس سے جو اثر بچوں پر پڑتا ہے اس کا کوئی نہیں سوچتا۔ان کی زندگی کس طرح متاثر ہوتی ہے اس کی پرواہ کوئی نہیں کرتا ۔ہاں اپنا رونا روتے رہتے ہیں کہ ہم نے صبر کیا جب کہ ڈھنڈورا پیٹنے کا نام صبر نہیں ہے ۔ گلے شکوے صبر نہیں ہے ۔ آپ اس کو برداشت کا نام تو دے سکتے ہیں لیکن صبر کا نہیں ۔ اب آتے ہیں دوبارہ موضوع کی طرف ۔ جب ایک گھر میں رہنے والے لوگ مختلف فطرت کے مالک ہو سکتے ہیں، ایک ہی ماں کے بچے مختلف ہو سکتے ہیں تو پھر کسی انجان انسان کا یا چلیں جاننے والا بھی تو اس کا سو فیصد آپ کے جیسا ہونا کیسے ممکن ہے؟ ہو سکتا ہے نکاح کے بعد آپ کا کسی انجان سے بہت اچھا تعلق بن جائے کیونکہ دلو‍ں میں محبت تو اللہ ڈال دیتا ہے ایک دوسرے کے لیے۔اور ایسا بھی ممکن ہے کہ کسی سے آپ کی بہت اچھی سلام دعا ہو لیکن اپ کا اور اس کا رشتہ نہ چل پائے؟ جس کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں ۔ وجوہات پر بات کروں گی تو مضمون بہت لمبا ہو جائے گا آپ خود سمجھدار ہیں ۔لیکن بس ایک معاشرتی برائی کی نشاندہی کرتی چلوں کہ جب آپ نے علیحدہ ہونا ہے تو آپ کس بات کا جھگڑا کر رہے ہیں؟ ایک انسان آپ کے ساتھ نہیں رہنا چاہتا تو آپ اس کو کیوں مجبور کر رہے ہیں؟ خلع کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تو آپ اس بات کو عدالت تک کیوں لے کر جا رہے ہیں؟ عزت سےالگ کیوں نہیں ہوجاتے؟ پھر عدالتوں میں ایک دوسرے پر الزامات لگا کر سب کے سامنے تماشہ بننے کا کیا مقصد ہے؟ اگر آپ اس طرح خود کو مظلوم ثابت کر کے ہمدردی سمیٹنا چاہتے ہیں تو معذرت کے ساتھ آپ ایک ذہنی مریض ہیں آپ کو علاج کی ضرورت ہے دوسری شادی کی نہیں ۔اور جب طلاق دینی ہی ہے تو عزت کے ساتھ دیں ۔ طلاق کے کاغذات پر مختلف قسم کے الزامات درج کروانے کا کیا مقصد؟ اگلے کی زندگی تو اس معاشرے میں پہلے ہی مشکل ہوجاتی ہے طلاق لینے سے پھر اس کو مزید مشکل بنانے کا کیا جواز؟ اسی طرح عورتوں کے لیے کہنا چاہوں گی کہ جب اپ نے طلاق لے ہی لی ہے تو پھر اب جگہ جگہ چغلی کرکے آپ صرف گناہ کما رہی ہیں اور اگر آپ بھی ایسا کرکے ہمدردی سمیٹنا چاہتی ہیں تو آپ کو بھی علاج کی ضرورت ہے کیونکہ میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہوا کرتے ہیں ایک دوسرے کے راز فاش کرنے کے لیے نہیں۔ یہ تو دو لوگوں کے مسائل تھے اب آتے ہیں میرے جیسے لوگوں کی طرف جنہوں نے طلاق کا سن کر اچھا اور برا سوچنا شروع کردیا ۔ تو ان کے لیے صرف اتنا ہی کہ آپ میاں بیوی کے ذاتی معاملات سے واقف نہیں اس لیے اپنے مشورے اور ججمنٹ اپنے تک محدود رکھیں جب تک اپ ان کی اصلاح نہیں کرلیتے۔ کسی کے اچھے یا برے ہونے کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے والے آپ کوئی نہیں ہوتے وہ بھی شادی کی بنیاد پر۔ اب آخری بات ان لوگوں کے لیے جو ناکام شادیوں میں صبر کے مشورے دیتے رہتے ہیں کوئی عورت خلع لینا چاہے تو پہلے گھر والے مخالفت کرتے ہیں اور پھر باہر کے لوگ تو باہر کے ہیں وہ بس اتنا کہہ کر کہ کسی اور کےیے طلاق لی ہے اگلے کی ساری عزت خاک میں ملا دیتے ہیں۔ اور اگر کوئی مرد طلاق دینے کے بعد دوسری شادی کرلے تو بھی لوگوں کا یہی دعویٰ ہوتا ہے کہ اس کے لیے پہلی کو چھوڑ دیا ۔ چلیں مان لیتے ہیں دونوں صورتوں میں ایسا ہوگا لیکن آپ کا بھلا اس سے کیا تعلق ہے؟ آپ پہلے اپنے گھر کے مسئلے تو سلجھا لیں ۔دوسروں کی زندگیوں کو عذاب بنانے کے لیے عمر پڑی ہے۔ المختصر طلاق سے زندگی ختم نہیں ہوجاتی ۔اگر آپ چاہتے ہیں کہ ایک طلاق یافتہ انسان جینا چھوڑ دے تو آپ مہربانی کریں خود پر اور معاشرے پر بھی کہ آپ بولنا چھوڑ دیں

 

عائشہ قمر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے