ایک آنسو میں ترے غم کا احاطہ کرتے

ایک آنسو میں ترے غم کا احاطہ کرتے
عمر لگ جائے گی اس بوند کو دریا کرتے
عشق میں جاں سے گزرنا بھی کہاں ہے مشکل
جان دینی ہو تو عاشق نہیں سوچا کرتے
ایک تو ہی نظر آتا ہے جدھر دیکھتا ہوں
اور آنکھیں نہیں تھکتی ہیں تماشا کرتے
زندگی نے ہمیں فرصت ہی نہیں دی ورنہ
سامنے تجھ کو بٹھا بیٹھ کے دیکھا کرتے
ہم سزاوار تماشا تھے ہمیں دیکھنا تھا
اپنے ہی قتل کا منظر تھا مگر کیا کرتے
اب یہی سوچتے رہتے ہیں بچھڑ کر تجھ سے
شاید ایسے نہیں ہوتا اگر ایسا کرتے
جو بھی ہم دیکھتے ہیں صاف نظر آ جاتا
چشم حیرت کو اگر دیدۂ بینا کرتے
شہر کے لوگ اب الزام تمہیں دیتے ہیں
خود برے بن گئے عاصمؔ اسے اچھا کرتے
ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے