عید قربان معارف و اسباق

عید قربان معارف و اسباق
ہم ہر سال بقر عید بڑے زور و شور سے مناتے ہیں، قربانی کرتے ہیں .کیوں نہ منائیں؟ سنت ابراہیمی کی یاد تازہ کرتے ہیں. لیکن! کیا ہم نے سوچا اس کے اسرار و رزموز کیا ہیں؟ کیا کبھی ہم نے غور کیا کہ عید قرباں سے دراصل ہمارے لیے کیا اسباق ہیں ؟ آج کل ہم تو شوق میں قربانی کرتے ہیں. ہر ایک عمدہ جانور کی تمنا کرتا ہے اور ایک دوسرے سے برتری حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں. کیا دین اسلام نے ہمیں یہ سکھایا ہے ؟ کیا اصل مقصد کو ہم نے جان کر پورا کرنے کی کوشش کی؟
شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم العالیہ نے کیا خوب فرمایا ہے:
"دین شوق پورا کرنے کا نام نہیں بل کہ اطاعت کانام ہے یہ دیکھنا چاہیئے کہ دین ہم سے کیا تقاضا کررہا ہے؟”
عید قرباں کا نام سنتے ہی ہمارے ذہن میں تین شخصیات رونما ہوتی ہیں:
حضرت ابراہیم علیہ السلام
حضرت اسماعیل علیہ السلام
حضرت بی بی ہاجرہ علیہ السلام
ان تینوں شخصیات سے حج اور قربانی کے واقعات جڑے ہیں. اللہ نے ان کو رول ماڈل بنا کر پیش کیا اور ان کے اعمال کو پسند فرما کر امت محمدیہ کے کیے فرض قرار دے دیا.
لیکن آج تک ہم نے ان شخصیات کو سمجھ کر ان کی اتباع کرنے کی کوشش نہیں کی. ان کا ذکر گزرا بھی تو بس ہم نے ان محض پڑھائی کی حیثیت سے پڑھ کر کتاب بند کردی.
وہ جس نے دی ہے جان و مال کی بے حد ہی قربانی
قسم اللہ کی کوئی نہیں اس ذات کا ثانی
(محمد اسامہ سرسری)
قربانی کا لفظ دراصل "قرب” سے نکلا ہے. جس کے معنی کسی شے کے نزدیک ہونا ہے. قربانی وہ چیز جس کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کیا جائے. قربانی کے ذریعے ہم اللہ کا قرب اور رضا حاصل کرتے ہیں. کیوں کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
"لَنۡ تَنَالُوا الۡبِرَّ حَتّٰى تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ ؕ وَمَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ شَىۡءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيۡمٌ ” (سورۃ ال عمران:92)
ترجمہ:
” ہرگز نہ حاصل کرسکو گے نیکی میں کمال جب تک نہ خرچ کرو اپنی پیاری چیز سے کچھ اور جو چیز خرچ کرو گے سو اللہ کو معلوم ہے”.
عید قرباں میں ہمارے لیے یہ سبق ہے کہ لوگوں کے دلوں میں اللہ کی محبت گھر کر جائے. جب ایسا ہوجائے تو ان لوگوں کے لیے کوئی بھی کام کرنا مشکل نہیں ہوتا ، وہ ہر قدم پر اللہ کی راہ میں اپنی جان و مال دینےسے گریز نہیں کرتے. آزمائش آئے تو صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے. اللہ پر توکل کرکے اس سے مدد مانگتے ہیں اور ثابت قدم رہتے ہیں . اپنا ہر معاملہ اللہ کے سپرد کردیتے ہیں تو اللہ بھی ان کی مدد کرتا ہے. صبر برداشت کی قوت (جان مال خواہشات کی قربانی) انسان کی زندگی کو خوشگوار بناتی ہے. اسی طرح مقصد کے لیے کوشش کرنے اور اللہ کی مدد پہنچنے کا انتظار کرے ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ جانا معقول بات نہیں ہوتی.
” لَنۡ يَّنَالَ اللّٰهَ لُحُـوۡمُهَا وَلَا دِمَآؤُهَا وَلٰـكِنۡ يَّنَالُهُ التَّقۡوٰى مِنۡكُمۡ‌ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَـكُمۡ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰٮكُمۡ‌ؕ وَبَشِّرِ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ” (سورۃ الحج :37)
ترجمہ:
” اللہ کو نہیں پہنچتا ان کا گوشت اور ان کا لہو لیکن اس کو پہنچتا ہے تمہارے دل کا ادب اسی طرح ان کو بس میں کردیا تمہارے کہ اللہ کی بڑائی پڑھو اس بات پر کہ تم کو راہ سمجھائی اور بشارت سنا دے نیکی والوں کو”.
قربانی کے اس عمل میں ہمارے لیے یہ قیمتی موتی بھی ہیں. ہم اپنی کوئی بھی قیمتی چیز قربان کرتے ہوئے کترائیں نہیں. اللہ کی راہ میں گن گن کر خرچ نہ کریں، بل کہ ایسے خرچ کریں کہ دایاں ہاتھ سے دیں تو بایاں ہاتھ کو خبر بھی نہ ہو. اللہ کا قرب نصیب ہو، تقوی اور تزکیہ نفس حاصل ہو، ہماری امیدیں اللہ سے وابستہ ہوں، ہمارے حوصلہ بلند اور ارادے پختہ ہوں.
اللہ تعالی نے پچھلی امتوں میں بھی قربانی کا حکم دیا تھا .
” وَلِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلۡنَا مَنۡسَكًا لِّيَذۡكُرُوا اسۡمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمۡ مِّنۡۢ بَهِيۡمَةِ الۡاَنۡعَامِ ؕ فَاِلٰهُكُمۡ اِلٰـهٌ وَّاحِدٌ فَلَهٗۤ اَسۡلِمُوۡا‌ ؕ وَبَشِّرِ الۡمُخۡبِتِيۡنَ ” (سورۃ الحج:34)
ترجمہ:
” اور ہر امت کے واسطے ہم نے مقرر کردی ہے قربانی کہ یاد کریں اللہ کے نام ذبح پر چوپایوں کے، جو ان کو اللہ نے دیئے سو اللہ تمہارا ایک اللہ ہے سو اسی کے حکم میں رہو اور بشارت سنا دے عاجزی کرنے والوں کو”.
پچھلی امتوں میں قربانی کا تصور تو تھا لیکن ان کو قربانی کے جانور کی باقیات اور اس سے فائدہ حاصل کرنے کی اجازت نہیں تھی. ان کی قربانی کو ایک آگ آکر کھا جاتی تو یقین ہوجاتا کہ قربانی اللہ کی بارگاہ میں قبول ہوئی. اگر ابھی ایسا ہوتا تو ہم ابھی اپنا محاسبہ کریں ہماری نیت کے مطابق (بہت ہی کم )لوگوں کی قربانی قبول کی جاتی ؟ اللہ نے اس امت پر سے یہ روک ہٹائی اور قربانی کے بعد جانور کی ہر ہر چیز میں فائدہ رکھا گیا. کھال سے لے کر گوشت تک ہر چیز سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دی گئی. گوشت کو ضائع کرنے کے بجائے خود بھی کھاؤ اور دوسروں کو بھی کھلاؤ کا حکم دیا گیا. قربانی کے اس گوشت کے تین حصے کرنے کا طریقہ بتایا تاکہ وہ لوگ جو پورا سال اس نعمت سے محروم رہے، وہ بھی خوشی کے دن اس نعمت سے فائدہ اٹھائیں.
پس جو قربانی صدق و اخلاص سے دی جائے. اس قربانی کے خون کا قطرہ زمین پر گرنے سے پہلے اللہ کی بارگاہ میں شرف قبولیت پا جاتی ہے۔(مشکوٰة)
اس سے ثابت ہوا کہ ہمارے ہر عمل میں اخلاص کا ہونا بہت ضروری ہے. دکھاوا تمام اعمال کو تباہ کردیتا ہے. الغرض یہ کہ اخلاص اللہ کی رضا و خوشنودی غریبوں کے ساتھ تعاون ہی عید قرباں کا مقصد ہے . اللہ تعالی ہماری نیتوں کو درست فرماکر صحیح مقصد کی طرف رہنمائی فرمائے. آمین
سیدہ حفظہ احمد
۲۸_جولائی_۲۰۲۰
٦_ذوالحجہ_١٤٤١

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے