احساس کی خوشبو یہ لگن تیرے لیے ہے

احساس کی خوشبو یہ لگن تیرے لیے ہے
چاہت سے بھرا دل کا چمن تیرے لیے ہے
ہر شعر میں تیرے ہی خدوخال ڈھلے ہیں
جو کچھ بھی ہے سرمایہَِ فن تیرے لیے ہے
سونے نہیں دیتی تری یادوں کی مشقّت
مخمور ہوں جس سے وہ تھکن تیرے لیے ہے
دے دوں میں خوشی سے تُو اگر جان بھی مانگے
یہ روح کی دنیا، یہ بدن تیرے لیے ہے
چوکھٹ پہ مہکتے ہیں ترے پیار کے گلشن
آنگن میں محبت کی پَون تیرے لیے ہے
محسوس کوئی دُکھ میرا ہوتا نہیں مجھ کو
احساس میں ہر لمحہ دُکھن تیرے لیے ہے
ہر سَمت نظر آتا ہے بس تیرا ہی جلوہ
بے تاب نگاہوں میں جلن تیرے لیے ہے
ساحل سلہری

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے