احساس خود گرفتہ سے جاں پر بنی رہی

احساس خود گرفتہ سے جاں پر بنی رہی
جب تک ہوا کے ساتھ مری دوستی رہی

پھر یوں ہوا کہ موت کے نرغے میں آ گئی
اک عمر ۔۔۔۔تیری یاد۔۔۔۔۔۔۔ مری زندگی رہی

اس شہر کم نصیب میں جلتے رہے دماغ
پھر بھی غریب شہر کے گھر تیرگی رہی

جگنو شعور فہم و فراست سے مر گئے
غیرت فشار ظلمت شب میں پڑی رہی

یاروں نے میرا درد۔۔۔۔۔۔۔۔ کھلونا بنا لیا
دل کو لگی تھی ان کے لیے دل لگی رہی

پانی کی بوند بوند لبوں کو ترس گئی
یعنی لب فرات۔۔۔۔۔۔۔ وہ تشنہ لبی رہی

اب جاں نکل گئی تو بدن کو سکون ہے
مرنے سے پیشتر مری حالت بری رہی

اپنے سے اک فرار رہا ہے تمام عمر
سید عدید ساتھ مری شاعری رہی

سید عدید

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے