احساسِ کامراں

احساسِ کامراں
افقِ روس سے پھوٹی ہے نئی صبح کی ضو
شب کا تاریک جگر چاک ہوا جاتا ہے
تیرگی جتنا سنبھلنے کے لیے رکتی ہے
سرخ سیل اور بھی بے باک ہوا جاتا ہے
سامراج اپنے وسیلوں پہ بھروسہ نہ کرے
کہنہ زنجیروں کی جھنکاریں نہیں رہ سکتیں
جذبۂ نصرتِ جمہور کی بڑھتی رو میں
ملک اور قوم کی دیواریں نہیں رہ سکتیں
سنگ و آہن کی چٹانیں ہیں عوامی جذبے
موت کے رینگتے سایوں سے کہو ہٹ جائیں
کروٹیں لے کے مچلنے کو ہے سیلِ انوار
تیرہ و تار گھٹاؤں سے کہو چھٹ جائیں
سالہا سال کے بے چین شراروں کا خروش
اک نئی زیست کا در باز کیا چاہتا ہے
عزمِ آزادیِ انساں، پہ ہزاروں جبروت
اک نئے دور کا آغاز کیا چاہتا ہے
برتر اقوام کے مغرور خداؤں سے کہو
آخری بار ذرا اپنا ترانہ دہرائیں
اور پھر اپنی سیاست پہ پشیماں ہو کر
اپنے ناکام ارادوں کا کفن لے آئیں
سرخ طوفان کی موجوں کو جکڑنے کے لیے
کوئی زنجیرِ گراں کام نہیں آ سکتی
رقص کرتی ہوئی کرنوں کے تلاطم کی قسم
عرصۂ دہر پہ اب شام نہیں چھا سکتی
ساحر لدھیانوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے