عہد

عہد
مرے مہرباں ترا شکریہ
تو ملا جو مجھ کو لگا تھا یوں
کہ تمام عمر تھی رائیگاں
کسی زاویئے میں قید تھی
نہیں ملتا مجھ کو مرا نشاں
تری شدتوں نے بتایا تھا
کہ تجھے بھی کچھ یہ گماں سا تھا
کٹی میرے بن جو حیات تھی
مرے ہم نفس پہ رہی گراں
کسی کمتری کے حصار نے
رکھا عمر بھر اسے بیکراں
چلو اب جو باقی بچی ہے یہ
اسے مل کے اب یوں بتائیں گے
تمھیں چھوڑ کر نہیں جائیں گے
سلمیٰ سیّد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے