دشت میں شہر بسانے کے لیئے آیا ہوں

دشت میں شہر بسانے کے لیئے آیا ہوں
میں تُجھے خواب دکھانے کے لیئے آیا ہوں

لِکھ دیا جائے یہی وقت کے دروازے پر
میں کسی اور زمانے کے لیئے آیا ہوں

کوزہ گر آنکھ سے گرتی ہوئی حیرت کو سنبھال
میں تو بس خود کو بُلانے کے لیئے آیا ہوں

دھوپ وہ زہر بھری ہے کہ قدم جلتے ہیں
سو یہاں پیڑ لگانے کیلئے آیا ہوں

مجھ کو جانا ہے کہاں یہ مجھے معلوم نہیں
اتنا معلوم ہے جانے کے لیئے آیا ہوں

ایک سناٹا ہے آنگن میں اسی واسطے میں
تیری پازیب بنانے کے لیئے آیا ہوں

کب تقاضا کیا محبوبؔ ترے دریا کا
میں تو بس پیاس بُجھانے کے لیئے آیا ہوں

محبوب صابر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے