دشمنِ جاں کوئی مہمان بناتی ہوں میں

دشمنِ جاں کوئی مہمان بناتی ہوں میں
آج فرزانہ کو نادان بناتی ہوں میں
بخش دیتی ہوں مناظر کو رو پہلا ریشم
جسم کو چاندنی کا تھان بناتی ہوں میں
جان رکھ دیتی ہوں طوطے کے بدن میں اپنی
اور طوطے کو بھی بے جان بناتی ہوں میں
رشتہ طے کرتی ہوں گڑیا کا پڑوسن کے گھر
سارا شادی کا بھی سامان بناتی ہوں میں
شام ڈھلنے سے مجھے دیکھ سحر ہونے تک
کیسے امید کو ارمان بناتی ہوں میں
جانے کس دھن میں سجا کر یہ کرن سا پیکر
خود کو آئینے سے انجان بناتی ہوں میں
یہ کسے دل کی سرائے میں بسا کر نیناں
اس کو اپنے لئے سنسان بناتی ہوں میں
فرزانہ نیناں

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے