درد جب صبر کے دھاروں سے نکل آئے تھے

درد جب صبر کے دھاروں سے نکل آئے تھے
پھر منافق مرے یاروں سے نکل آئے تھے

لاش پانی میں پڑی دیکھ کے تنہا میری
اشک دریا کے کناروں سے نکل آئے تھے

دیکھ کے آنکھ مچولی کو چمن میں اس دن
دفعتاً پھول بہاروں سے نکل آئے تھے

میں نے آواز لگائی تھی محبت لے لو
لوگ عجلت میں قطا روں سے نکل آئے تھے

میرے آقاﷺ کی رسالت کی گواہی کے لیے
معجزے چاند ستاروں سے نکل آئے تھے

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے