یہ عجب ساعت رخصت ہے کہ ڈر لگتا ہے

یہ عجب ساعت رخصت ہے کہ ڈر لگتا ہے

شہر کا شہر مجھے رخت سفر لگتا ہے

رات کو گھر سے نکلتے ہوئے ڈر لگتا ہے

چاند دیوار پے رکھا ہوا سر لگتا ہے

ہم کو دل نے نہیں حالات نے نزدیک کیا

دھوپ میں دور سے ہر شخص شجر لگتا ہے

جس پہ چلتے ہوئے سوچا تھا کہ لوٹ آؤں گا

اب وہ رستہ بھی مجھے شہر بدر لگتا ہے

مجھ سے تو دل بھی محبت میں نہیں خرچ ہوا

تم تو کہتے تھے کہ اس کام میں گھر لگتا ہے

وقت لفظوں سے بنائی ہوئی چادر جیسا

اوڑھ لیتا ہوں تو سب خواب ہنر لگتا ہے

اس زمانہ میں تو اتنا بھی غنیمت ہے میاں

کوئی باہر سے بھی درویش اگر لگتا ہے

اپنے شجرے کہ وہ تصدیق کرائے جا کر

جس کو زنجیر پہنتے ہوئے ڈر لگتا ہے

ایک مدت سے مری ماں نہیں سوئی تابشؔ

میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے

عباس تابش

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے