دنیا کو ایک اور ہی ڈھب سے چلائے گا

دنیا کو ایک اور ہی ڈھب سے چلائے گا
انسان کی جگہ وہ کھلونے بنائے گا
اِک اور ہی طرح کی اسیری ہے سامنے
اور اب کی بار کوئی پیمبر نہ آئے گا
آنگن میں ڈر ہے اور دریچوں میں خوف ہے
اب بام ورد سے کون رہائی دلائے گا
اِس شہر میں بسے ہوئے لوگوں کی خیر ہو
جو سُن رہا ہے وہ کوئی مژدہ سنائے گا
تارا سا اِک امید پہ ہے ہفت آسماں
یہ حرف ہے دُعا کا بہت دور جائے گا
گِروی رکھے ہوئے ہیں مِرے خواب اُسکے ہاں
جائونگی میں جہاں وہ مِرے ساتھ جائیگا
فرحت زاہِد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے