دنیا کا سب سے انمول رتن

دنیا کا سب سے انمول رتن
پریم چند کا پہلا افسانہ
دلفگار ایک پرخار درخت کے نیچے دامنِ چاک بیٹھا ہوا خون کے آنسو بہا رہا تھا ، وہ حسن کی دیوی یعنی ملکہ دلفریب کا سچا اور جانباز عاشق تھا ۔ ان عشاق میں نہیں جو عطر پھلیل میں بس کر اور لباسِ فاخرہ سج کر عاشق کے بھیس میں معشوقیت کا دم بھرتے ہیں ، بلکہ ان سیدھے سادے بھولے بھالے فدائیوں میں جو کوہ اور بیاباں میں سر ٹکراتے اور نالہ و فریاد مچاتے پھرتے ہیں ۔ دلفریب نے اس سے کہا تھا کہ
”اگر تو میرا سچا عاشق ہے تو جا اور دنیا کی سب سے بیش بہا شے لے کر میرے دربار میں آ ، تب میں تجھے اپنی غلامی میں قبول کر وں گی اگر تجھے وہ چیز نہ ملے تو خبردار ! ادھر کا رخ نہ کرنا ورنہ دار پر کھنچوادوں گی ۔”
دلفگار کو اپنے جزبے کے اظہار کا شکوہ شکایات اور جمال یار کے دیدارکا مطلق موقع نہ دیا گیا ، دلفریب نے جونہی یہ فیصلہ سنایا۔ اس کے چوبداروں نے غریب دلفگار کو دھکے دے کر باہر نکال دیا۔ اور آج تین دن سے یہ ستم رسیدہ شخص اسی پرخار درخت کے نیچے اسی وحشت ناک میدان میں بیٹھا ہوا سوچ رہا ہے کہ کیا کروں ؟
دنیا کی سب سے بیش بہا شے ! ناممکن ! اور وہ ہے کیا ؟ قارون کا خزانہ ؟ آب حیات ؟ تاجِ خسرو ؟ جام حجم ؟ تخت طاوس ؟ زرپرویز؟ نہیں یہ چیزیں ہرگز نہیں، دنیا میں ضرور ان سے گراں تر ان سے بھی بیش بہا چیزیں موجود ہیں ، مگر وہ کیا ہیں ؟ کہاں ہیں ؟ کیسے ملیں گی ؟ یا خدا میری مشکل کیونکر آسان ہوگی ؟
دلفگار انہیں خیالات میں چکر کھا رہا تھا اور عقل کچھ کام نہ کرتی تھی میر شامی کو حاتم سا مدد گار مل گیا ، اے کاش کوئی میرا بھی مددگار ہوجاتا ، اے کاش مجھے بھی اس چیز کا جو دنیا کی سب سے بیش بہا ہے نام بتلا دیا جاتا بلا سے وہ شے دستیاب نہ ہوتی مگر مجھے اتنا تو معلوم ہوجاتا کہ وہ کس قسم کی چیز ہے ، میں گھڑے برابر موتی کی کھوج میں جاسکتا ہوں ، میں سمندر کا نغمہ ،پتھر کا دل ، قضا کی آواز ، اور ان سے بھی زیادہ بے نشاں چیزوں کی تلاش میں کمر ہمت باندھ سکتا ہوں مگر دنیا کی سب سے بیش بہا شے یہ میرے پر پرواز سے بالاتر ہے ۔
آسمان پر تارے نکل آئے تھے ، دلفگار یکایک خدا کا نام لے کر اٹھا اور ایک طرف کو چل کھڑا ہوا ، بھوکا پیاسا ۔ برہنہ خستہ و زار وہ برسوں ویرانوں اور آبادیوں کی خاک چھانتا پھرا ۔ تلوے کانٹوں سے چھلنی ہوگئے ، جسم میں تار مسطر کی طرح ہڈیاں ہی ہڈیاں نظر آنے لگیں ۔ مگر وہ چیز جو دنیا کی سب سے بیش بہا شے تھی ، میسرنہ ہوئی ، اور نہ اس کاکچھ نشان ملا۔
بھولتا بھٹکتا ایک میدان میں نکلا ، جہاں ہزاروں آدمی حلقہ باندھے کھڑے تھے ۔۔۔۔۔ دلفگار کچھ ناتوانی کے غلبے سے اور کچھ یہاں کی کیفیت دیکھنے کے ارادے سے ٹھٹک گیا ۔ کیا دیکھتا ہے کہ کئی برقندار ایک دست و پا بزنجیر قیدی کو لئے چلے آرہے ہیں ۔ سولی کے قریب پہنچ کر سب سپاہی رک گئے اور قیدی کی ہتھکڑیاں بیڑیاں سب اتار لی گئیں ، اس بدقمست شخص کا دامن صدہا بے گناہوں کے خون کے چھینٹوں سے رنگین ہورہا تھا ، اور اس کا دل نیکی کے خیال اور رحم کی آواز سے مطلق مانوس نہ تھا ۔ اسے کالاچور کہتے تھے ۔ سپاہیوں نے اسے سولی کے تختے پر کھڑا کر دیا ، موت کی پھانسی اس کی گردن میں ڈال دی اور جلادوں نے تختہ کھینچنے کا ارادہ کیا کہ بدقسمت مجرم چیخ کر بولا
”لللہ مجھے ایک دم کے لئے پھانسی سے اتاردو، تاکہ اپنے دل کی آخری آرزو نکال لوں ۔”
یہ سنتے ہی چاروں طرف سناٹا چھاگیا، لوگ حیرت میں آکر تاکنے لگے ۔ قاضیوں نے ایک مرنے والے شخص کی آخری استدعا کو رد کرنا مناسب نہ سمجھا ، اور بدنصیب سیہ کار کالاچور ذرا دیر کے لئے بھانسی سے اتار لیا گیا ۔
اس مجمع میں ایک خوبصورت بھولا بھالا لڑکا ایک چھڑی پر سوار ہوکر اپنے پیروں سے اچھل اچھل کر فرضی گھوڑا دوڑا رہا تھا ، اور اپنے عالم سادگی میں مگن تھا گویا وہ اس وقت واقعی کسی عربی رہوار کا شہسوار ہے ۔ اس کا چہرہ اس سچی مسرت سے کنول کی طرح کھلا ہوا تھا ،چند دنوں کے لئے بچپن میں حاصل ہوتی ہے ، اور جس کی یاد ہم کو مرتے دم تک نہیں بھولتی ، اس کا سینہ ابھی تک معصیت کے گردو غبار سے بے لوث تھا ۔ اور معصومیت اسے اپنی گود میں کھلا رہی تھی ۔
؂؂بدقسمت کالا چور پھانسی سے اترا ، ہزاروں آنکھیں اس پر گڑی ہوئی تھیں ۔ وہ اس لڑکے کے پاس آیا اور اسے گود میں اٹھا کر پیار کرنے لگا ،اسے اس وقت وہ زمانہ یاد آیا جب وہ خود ایسا ہی بھولا بھالا ایسا ہی خوش و خرم اور آلائشات دنیوی سے ایسا ہی پاک و صاف تھا ۔ ماں گودیوں میں کھلاتی تھی ۔ باپ بلائیں لیتا تھا اور سارا کنبہ جانیں وار کرتا تھا ۔ آہ ! کالے چو ر کے دل پر اس وقت ایام گزشتہ کی یاد کا اتنا اثر ہوا کہ اس کی آنکھوں سے جنھوں نے نیم بسمل لاشوں کو تڑپتے دیکھا اور نہ جھپکی تھیں ، آنسوں کا ایک قطرہ ٹپک پڑا ، دلفگار نے لپک کر اس دریکتا کو ہاتھ میں لے لیا اور اس کے دل نے کہا بیشک یہ شے دنیا کی سب سے انمول چیز ہے جس پر تخت طاو س اور جام جم اور آب حیات اور زر پرویز سب تصدیق ہیں ۔
اسی خیال سے خوش ہوتا ، کامیابی کی امید سے سرمست دلفگار اپنی معشوقہ الفریب کے شہر مینو سواد کو چلا ، مگر جوں جوں منزلیں طے ہوتی جاتی تھیں ۔ اس کا دل بیٹھا جاتا تھا کہ کہیں اس چیز کی جسے میں دنیا کی سب سے بیش بہا چیز سمجھتا ہوں ۔ دلفریب کی نگاہوں میں قدر نہ ہوئی تو میں دار پر کھینچ دیا جاوں گا ، اور اس دنیا سے نامراد جاوں گا پر ہرچہ باداباد اب تو قسمت آزمائی ہے ۔ آخر کو وہ دریا طے کرتے شہر مینو سواد میں آپہنچا اور دلفریب کے دردولت پر جاکر التماس کی کہ خستہ و زار دلفگار بفضل خدا تعمیل ارشاد کرکے آیا ہے اور شرف قدم بوسی چا ہتا ہے ۔ دلفریب نے فی الفور حضور میں بھلا بھیجا ، اور اوٹ سے فرمائش کی کہ وہ بیش بہا پیش کرو ۔
دلفگار نے نے ایک عجیب امیدو بہم کے عالم میں وہ قطرہ پیش کیا اور اس کی ساری کیفیت نہایت ہی موثر لہجے میں بیان کی ۔
دلفریب نے کل روداد بغور سنی ۔ اور تحفہ ہاتھ میں لے کر ذرا دیر تک غور کرکے بولی
”یہ دلفگار بیشک تونے دنیا کی ایک بیش قیمت چیز ڈھونڈ نکالی ۔ تیری ہمت کو آفریں اور تیری فراست کو مرحبا ، مگر یہ دنیا کی سب سے بیش قیمت چیز نہیں ۔ اس لئے تو یہاں سے جا اور پھر کوشش کر ۔ شاید اب کی تیرے ہاتھ در مقدر لگے اور تیری قسمت میں میری غلامی لکھی ہو ، اپنے عہد کے مطابق میں تجھے دار پر کھنچوا سکتی ہوں ۔ مگر میں تیری جان بخشی کرتی ہوں ۔ اس لئے کہ تجھ میں وہ اوصاف موجود ہیں جو اپنے عاشق میں دیکھنا چاہتی ہوں اور مجھے یقین ہے کہ تو ضرور کبھی سرخ رو ہوگا ۔”
ناکام و نامراد دلفگار اس عنایت معشوقانہ سے ذرا دلیر ہوکر بولا
”اے محبوب دلنشیں بعد مدتہائے دراز کے تیرے آستان کی جب رسائی نصیب ہوئی ہے پھر خدا جانے ایسے دن کب آئیں گے ، کیا تو اپنے عاشق جانباز کے حال زار بدترین پر ترس نہ کھائے گی اور اپنے جمال جہاں آرا کا جلوہ دکھا کر اس سوختہ تن دلفگار کو آنے والی سختیوں کے جھیلنے کے لئے مستعد نہ بنائے گی ، تیری ایک نگاہ و مست کے نشہ سے بخود ہو کر میں وہ کر سکتا ہوں جو آج تک کسی سے نہ ہوا ہو ۔
دلفریب عاشق کے یہ اشتیاق آمیز کلمات کو سن کر برافروختہ ہوگئی اور حکم دیا کہ اس دیوانے کو کھڑے کھڑے دربار سے نکال دو ۔ چوبدار نے فورا غریب دلفگار کو دھکے دے کر کوچۂ یار سے باہر نکال دیا ۔
کچھ دیر تک تو دلفگار معشوقانہ ستم کیش کی اس اس تند خوئی پر آنسو بہاتا رہا ۔ بعد ازاں سوچنے لگا کہ اب کہاں جاوں ، مدتوں کی رہ نوردی و بادیہ پیمائی کے بعد یہ قطرہ اشک ملا تھا ۔ اب ایسی کون سی چیز ہے جس کی قیمت اس در آبدار سے زائد ہو ۔ حضرت خضر ! تم نے سکندر کو جاہ و ظلمات کا راستہ دکھایا تھا ۔ کیا میری دست گیری نہ کروگے ؟ سکندر شاہ ہفت کشور تھا ، میں تو ایک خانمان برباد مسافر ہوں ، تم نے کتنی ہی ڈوبتی کشتیاں کنارے لگائی ہیں ۔ مجھ غریب کا بیڑہ بھی پار کرو ۔ اے جبرئیل عالمی مقام ! کچھ تمہیں اس عاشق نیم جان و اسیر رنج و محسن پر ترس کھاو ۔ تم مقربان بارگاہ سے ہو ۔ کیا میری مشکل آسان نہ کروگے ؟ الغرض دلفگار بیزار نے بہت فریاد مچائی، مگر کوئی اس کی دستگیری کے لئے نمودار نہ ہوا ۔ آخر مایوس ہوکر وہ مجنوں صفت دوبارہ ایک طرف کو چل کھڑا ہوا ۔
دفگار نے یورپ سے پچھم تک اور اتر سے دکھن تک کتنے ہی دیاروں کی خاک چھانی ۔ کبھی برفشانی چوٹیوں پر سویا ۔ کبھی ہولناک وادیوں میں بھٹکتا پھر ا ، مگر جس چیز کی دھن تھی وہ نہ ملی ۔ یہاں تک کہ اس کا جسم ایک تو دہ استخوان ہوگیا ۔
ایک روز وہ شام کے وقت کسی دریا کے کنارے خستہ حال پڑا ہوا تھا ۔ نشہ بے خودی سے چونکا تو کیا دیکھتا ہے کہ صندل کی چتا بنی ہوئی ہے ۔ اور اس پر ایک نازنین شہانے جوڑے پہنے سو لہوں سنگار کئے بیٹھی ہوئی ہے ۔ اس کے زانوں پر اس کے پیارے شوہر کی لاش ہے ۔ ہزاروں آدمی حلقہ باندھے کھڑے ہیں اور پھولوں کی برکھا کر رہے ہیں ۔ یکایک چتا میں سے خودبخود ایک شعلہ اٹھا ، ستی کا چہرہ اس وقت ایک پاک جزبے سے منور ہورہا تھا ۔ مبارک شعلے اس کے گلے لپٹ گئے ۔ اور دم زدن میں وہ پھول سا جسم تو دہ خاکستر ہوگیا۔معشوق نے اپنے تئیں عاشق پر نثار کر دیا ، وہ دو فدائیوں کی سچی ،لازوال اور پاک محبت کا آخری جلوہ نگاہ ظاہر سے پنہاں ہوگیا ۔ جب سب لوگ اپنے گھروں کو لوٹے تو دلفگار چپکے سے اٹھا اور اپنے گریبان چاک دامن میں یہ تودہ خاک سمیت لیا ۔ اور اس کی مشت خاک کو دنیا کی سب سے گراں بہا چیز سمجھتا ہوا کامرانی کے نشہ مین مخمور کوچۂ یار کی طرف چلا ،جوں جوں وہ منزل مقصود کے قریب آتا تھا اس کی ہمیتیں بڑھتی جاتی تھیں ۔ کوئی اس کے دل میں بیٹھا ہوا کہہ رہا تھا اب کی تیری فتح ہے اس خیال نے اس کے دل کو جو خواب دیکھائے اس کا ذکر فضول ہے ۔ آخر وہ شہر مینو سواد میں داخل ہوا اور دلفریب کے آستان رفعت نشان پر جاکر خبر دی کہ دلفگار سرخرو اور باوقار لوٹا ہے اور حضور میں بازیاب ہوا چاہتا ہے ۔ دلفریب کے عاشق جانباز کو فورا دربار میں بلایا اور اس چیز کے لئے جو دینا کی سب سے بیش بہا جنس تھی ، ہاتھ پھیلا دیا ۔ دلفگار نے جرات کرکے اس ساعد سمیں کا بوسہ لے لیا اوروہ مشت خاک اس میں رکھ کر اس ساری کیفیت نہایت دلسوز انداز میں کہہ سنائی اور معشوقہ دلپزیر خاک کو آنکھوں سے لگالیا اور کچھ دیر تک دریائے تفکر میں غرق رہنے کے بعد بولی ۔
”اے عاشق جانثار دلفگار ! بیشک یہ سفاک کیمیا ئے صفت جو تو لایا ہے دنیا کی نہایت بیش قیمت چیز ہے اور میں تیری صدق دل سے ممنون ہوں کہ تونے ایسا بیش بہا تحفہ مجھے پیش کیا ۔ مگر دنیا میں اس سے بھی زیادہ گراں قدر کوئی چیز ہے ۔ جا اسے تلاش کر اور تب میرے پاس آ، میں تہہ دل سے دعا کرتی ہوں کہ خدا تجھے کامیاب کرے ۔”
یہ کہہ کر وہ پردہ زنگار سے باہر آئی ا معشوقانہ ادا سے اپنے جمال جاں سوز کا نظارہ دکھا کر پھر نظروں سے غائب ہوگئی ایک برق تھی کہ کوندی اور پردہ ابر میں چھپ گئی ۔ ابھی دلفگار کے حواس بجا نہ ہونے پائے تھے کہ چوبدار نے ملائمت سے اس کا ہاتھ پکڑ کر کوچۂ یار سے نکال دیا اور پھر تیسری بار وہ بندہ محبت ، وہ زاویہ نشیں گنج ناکامی یاس کے اتہا سمندر میں غوطہ کھانے لگا ۔
دلفگار کا ہباو چھوٹ گیا ۔ اسے یقین ہوگیا کہ میں دنیا میں ناشاد و نامراد مر جانے کے لئے پیدا کیا گیا تھا اور اب بجر اس کے کوئی چارہ نہیں کہ کسی پہاڑ پر چڑھ کر اپنے تئیں گرادوں ، تاکہ معشوق کی جفا کاریوں کے ایک ریزہ استخوان بھی باقی نہ رہے ۔ وہ دیوانہ وار اٹھا اور افتاں و ثیزاں ایک سربفلک کوہ کی چوٹی پر جاپہنچا ، کسی اور وقت وہ ایسے اونچے پہاڑ پر چڑھنے کی جرات نہ کر سکتا تھا مگر اس وقت جان دینے کے جوش میں اسے وہ پہاڑ ایک معمولی ٹیکرے سے زیادہ اونچا نہ نظر آیا ۔ ، قریب تھا کہ وہ نیچے کود پڑے کہ ایک سبز پوش پیر مرد سبز عمامہ باندھے ایک ہاتھ میں تسبح اور دوسرے ہاتھ میں عصا لئے بر آمد ہوئے اور ہمت افزا لہجے میں بولے
” دلفگار ! نادان دلفگار! یہ کیا بزدلانہ حرکت ہے ؟ استقلال راہ عشق کی پہلی منزل ہے ۔ با اینہہ اوعائے عاشقی تجھے اتنی بھی خبر نہیں ، مرد بن اور یوں ہمت نہ ہار مشرق کی طرف ایک ملک ہے جس کا نام ہندوستان ہے ۔ وہاں جا اور تیری آرزو پوری ہوگی ۔” یہ کہہ کر حضر ت خضر غائب ہوگئے ، دلفگار نے شکریہ کی نماز ادا کی اور تازہ حوصلے ، تازہ جوش اور غیبی امداد کا سہار ا پاکر خوش خوش پہاڑ سے اترا اور جانب ہند مراجعت کی ۔مدتوں تک پرخار جنگلوں ، شرربار ریگستانوں ، دشوار وادیوں اور ناقابل عبور پہاڑوں کو طے کرنے کے بعد دلفگار ہند کی سرزمین میں داخل ہوا اور ایک خوشگوار چشمہ میں سفر کی ساری کلفیتں دھوکر غلبہ ماندگی سے لب جوئبار لیٹ گیا ۔ شام ہوتے ہوتے وہ ایک کف دست میدان میں پہونچا جہاں بیشمار نیم کشتہ اور بے جان لاشیں بے گوروکفن پڑی ہوئی تھیں ۔ زاغ و زغن اور وحشی درندوں کی گرم بازاری تھی اور سارا میدا ن خون سے شنگرف ہورہا تھا ، یہ ہیبت ناک نظارہ دیکھتے ہی دلفگار کا جی دہل گیا ۔ خدایا ! کس عذاب میں جان پھسنی ، مرنے والوں کا کراہنا سسکنا اور ایڑیاں رگڑ کر جان دینا درندوں کا ہڈیوں کو نوچنا اور گوشت کے لوتھڑوں کو لے کر بھاگنا ایسا ہولناک سین دلفگار نے کبھی نہ دیکھا تھا ، یکایک اسے خیال آیا ۔ میدان کارزار ہے اور یہ لاشیں سورما سپاہیوں کی ہیں ۔ اتنے میں قریب سے کراہنے کی آواز آئی ۔ دلفگار اس طرف پھرا تو دیکھا کہ ایک قوی ہیکل شخص جس کا مردانہ چہرہ ضیعف جانکندنی سے زرد ہوگیا ہے ۔ زمین پر سرنگوں پڑا ہوا ہے ۔ سینے سے خون کا فوارہ جاری ہے ۔ مگر شمشیر آبدار کا قبضہ پنجے سے الگ نہیں ہوا ۔ دلفگار نے ایک چیتھڑا لے کردہان زخم پر رکھ دیا تاکہ خون رک جائے اور بولا
”اے جوان مرد ! تو کون ہے ؟
جوانمرد نے یہ سن کر آنکھیں کھولیں اور دلیرانہ لہجہ میں بولا
”تو نہیں جانتا کہ میں کون ہوں ۔ کیا تونے آج اس تلوار کی کاٹ نہیں دیکھی ؟ میں اپنی ماں کا بیٹا اور بھار ت کا لخت جگر ہوں”
یہ کہتے کہتے اس کے تیور وں پر بل پڑ گئے ، زرد چہرہ خشگمیں ہوگیا اور شمشیر آبدار پھر اپنے جوہر دکھانے کے لئے چمک اٹھی
دلفگار سمجھ گیا کہ یہ اس وقت مجھے دشمن جان خیال کر رہا ہے ۔ ملائمت سے بولا
”اے جوانمرد و میں تیرا دشمن نہیں ہوں ایک آواہ وطن غربت زدہ مسافر ہوں ادھر بھولتا بھٹکتا آنکلا ، براہ کرم مجھ سے یہاں کی مفصل کیفیت بیان کر”
یہ سنتے ہی زخمی سپاہی نہایت شیریں لہجہ میں بولا” اگر تو مسافر ہے تو آ اور میرے خون سے تر پہلو میں بیٹھ جا کیونکہ افسوس ہے کہ تو یہاں ایسے وقت میں آیا جب ہم تیری مہمان نوازی کرنے کے قابل نہیں ، ہمارے باپ دادا کا دیس آج ہمارے ہاتھ سے نکل گیا اور اس وقت ہم بے وطن ہیں ۔ مگر( پہلو بدل کر) ۔ ہم نے حملہ آور غنیم کو بتا دیا کہ راجپوت اپنے دیس کے لئے کیسی بے جگری سے جان دیتا ہے ، یہ آس پاس جو لاشیں تو دیکھ رہا ہے یہ ان لوگوں کی ہیں جو جو اس تلوار سے گھاٹ اترے ہیں ۔( مسکرا کر ) اور گو کہ میں بے وطن ہوں ، مگر غنیمت ہے کہ حریف کے حلقہ میں مر رہا ہوں ۔ ( سینے کے زخم سے چیتھڑا نکال کر ) کیا تو نے یہ مرہم رکھ دیا ہے ۔ خون نکنے دے ۔ اسے روکنے سے کیا فائدہ ؟ کیا میں اپنے ہی وطن میں غلامی کرنے کے لئے زندہ ہوں ۔ ؟ نہیں ایسی زندگی سے مرنا اچھا ، اس سے بہتر موت ممکن نہیں”
جوانمرد کی کی آواز مدہم ہوگئی ، اعضا ڈھیلے ہوگئے ، خون اس کثرت سے بہا کہ اب خود بخود بند ہوگیا ۔ رہ رہ کر ایک آدھ قطرہ ٹپک پڑتا تھا ، آخر کار سارا جسم بیدم ہوگیا ۔ قلب کی حرکت بند ہوگئی اور آنکھیں ٹہر گئیں
دلفگار نے سمجھا اب کام تمام ہوگیا کہ مرنے والے نے آہستہ سے کہا ۔ ”بھارت ماتا کی جے”
اور اس کے سینہ سے آخری قطرہ خون نکل پڑا ۔ ایک سچے محب وطن اوردیس بھگت نے حب الوطنی کا حق ادا کر دیا ۔دلفگار اس نظارہ سے بے حد متاثر ہوا اور اس کے دل نے کہا بے شک دنیا میں اس قطرہ خون سے بیش قیمت شے نہیں ہوسکتی ۔ اس نے فورا اس رشک لعل رمانی کو ہاتھ میں لے لیا ۔ اور اس دلیرراجپوت کی بسالت پر عش عش کرتا ہوا عازم وطن ہوا ۔ اور وہ سختیاں جھیلتا ہوا بالآخر ایک مدت دراز میں ملکہ اقلیم خوبی اور در صدف محبوبی کے در دولت پر جا پہنچا ، اور پیغام دیا کہ دلفگارسرخرو و کامگار لوٹا ہے اور دربار گہر بار میں حاضر ہونا چاہتا ہے ، دلفریب نے اسے فورا حاضر ہونے کا حکم دیا خود حسب معمول پردہ زرنگار کے پس پشت بیٹھی اور بولی
دلفگار اب کی تو بہت دنوں کے بعد واپس آیا ہے ۔ لا دنیا کی سب سے بیش قیمت چیز کہاں ہے ۔ ؟ دلفگار نے پنجۂ ہنائی کا بوسہ لے کر وہ قطرہ خون اس پر رکھ دیا ، اور اس کی مشرح کیفیت پرجوش لہجے میں کہہ سنائی ، وہ خاموش بھی نہ ہونے پایا تھا کہ یکایک وہ پردہ دزرنگار ہٹ گیا اور دلفگار کے روبرو ایک دربار حسن آراستہ نظر آیا ۔ جس میں ایک نازنین رشک زلیخا تھی ۔ دلفریب بصد شان رعنائی مسند زریں کا رپر جلوہ افروز تھی ۔ دلفگار یہ طلسم حسن دیکھ کر متحیر ہوگیا ، اور نقش دیوار کی طرح سکتے میں آگیاکہ دلفریب مسند سے اٹھی اور کئی قدم آگے بڑھ کر اس کے ہم آغوش ہوگئی ، رقاصان دلنواز نے شادیانے گانے شروع کئے ۔ حاشیہ نشینان دربار نے دلفگار کو نذریں گزاریں ، اور ماہ و خورشید کو بہ عزت تمام مسند پر بیٹھا دیا ، جب نغمہ دل پسند بند ہوا تو دلفریب کھڑی ہوگئی اور دست بستہ ہوکر دلفگار سے بولی ۔
اے عاشق جان نثار دلفگار! میری دعائیں تیر بہدف ہوئیں اور خدانے میری سن لی اور تجھے کامیاب و سرخروکیا ۔ آج سے تو میرا آقا ہے اور میں تیری کنیز ناچیز
یہ کہہ کر اس نے ایک مرصح صندوقچہ منگوایا اور اس میں سے ایک لوح نکالا جس پر آب زر سے لکھا ہوا تھا ۔
”وہ آخری قطرہ خون جو وطن کی حفاظت میں گرے ، دنیا کی سب سے بیش قیمت شے ہے ۔”
منشی پریم چند

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے