دم بخود ہیں دیکھ کر سارے قلندر کی دھمال

دم بخود ہیں دیکھ کر سارے قلندر کی دھمال
اُس نے باہر پھینک دی ہے اپنے اندر کی دھمال

پگڑیاں تو کیا کوئی سر بھی سلامت کب رہا
شہر میں ہونے لگی جس روز پتھر کی دھمال

دیکھ آیا ہوں بگولے رقص کرتے ریت پر
جم گئی ہے آنکھ کے اندر وہ منظر کی دھمال

مچھلیاں پانی کے اوپر رقص کرنے لگ گئیں
چاندنی راتوں میں دیکھی جب سمندر کی دھمال

خون کے اِس کھیل کو تم نے تماشا کہہ دیا
سب کو زخمی کر گئی ہے ایک خنجر کی دھمال

وہ قلابازی لگا کے سب پہ بازی لے گیا
چھت پہ جا کر دیکھ لے تُو بھی کبوتر کی دھمال

جھومتا رہتا ہے صابرؔ مست ہو کے رات دن
اُس نے جب سے دیکھ لی اپنے مقدّر کی دھمال

ایوب صابر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے