Dukh ka Har Behroop

دکھ کا ہر بہروپ انوکھا
ہر الجھن کا روپ انوکھا
غم کو جب اس دھرتی پر پرکھا
اک پل دھوپ اور اک پل برکھا
دردوں کے بندھن میں تڑپیں
لاکھوں جسم اور لاکھوں روحیں
میں جس آگ سے کلیاں چھانوں
میرا قصہ ہے ، میں جانوں
شام ہوئی ہے ، سوچ رہا ہوں
تو سورج ہے ، میں دنیا ہوں
لوٹ کے آنا ، تیرے بس میں
تجھ کو پانا تیرے بس میں
سایوں کی اک اک کروٹ پر
زنجیروں میں ڈوب گیا ہوں
دل میں چند شرارے لے کر
اپنی راکھ سے کھیل رہا ہوں

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے