دکانِ حبس میں وہ جالیاں بناتا تھا

دکانِ حبس میں وہ جالیاں بناتا تھا
گھٹن سے مر گیا جو کھڑکیاں بناتا تھا

تباہی یہ اُسی پیپل کی بد دعا سے ہے
کہ جس کے سائے میں تُو آریاں بناتا تھا

تمام خواہشیں تالے لگا کے رکھتا تھا
وہ بے مکاں تھا مگر چابیاں بناتا تھا

کسی نے ریت مصور کی آنکھ میں بھر دی
کبھی جو لال ، ہری تتلیاں بناتا تھا

کھلا کے زہر جسے زائقے کا پوچھا گیا
کبھی مٹھاس بھری ٹافیاں بناتا تھا

جو صبع تین بجے مر گیا خموشی سے
پتا چلا کہ وہی سیٹیاں بناتا تھا

احمد آشنا

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے