بیشک ۔ دُعا تقدیر کو بدل دیتی ہے

بیشک ۔ دُعا تقدیر کو بدل دیتی ہے
جب کبھی طبیعت مکدر ہونے لگے اور آس پاس کی دنیا سے جی اکتانے لگے تو اس کا بہترین علاج سفر ہے۔ ایسا سفر جس میں زادِ راہ کم ہو’ منزل کا کوئی علم نہ ہو’ بس من چلے کے سودے کی طرح اپنے حصے کے عرفان کی تلاش میں نکلنا ہو۔ لیکن یہ سفر کچھ شتربےمہارجیسا بھی نہ ہو بلکہ اس میں عرفان ‘ گیان اور نیا وجدان حاصل کرنے کی جستجو ہو تو قوی امکان ہے کہ ایسا سفرہی وسیلہ ظفر بننے کا باعث بنے گا۔
بابا جی اشفاق صاحب کی کوئی سنت پوری ہونی تھی یا شاید وہیں سے اپنے حصے کی کوئی بات ملنی تھی’ سفر میں چلتے چلتے پنڈی بھٹیاں کے مضافات میں ایک ڈیرے پہ جا پہنچے’ گرمیوں کے دن تھے لیکن دیہات کے قدرتی کھلے پن کی وجہ سے گرمی کا احساس اس شدت سے نہیں تھا جیسا ہمیں ائیرکنڈیشنڈ کمرے سے باہر نکلنے سے ہوتا ہے۔ سادہ سے بنے ہوئے گھر میں دعوتِ شیراز کا اہتمام تھا اور ہر کوئی آنے جانے والا اپنے معدے کی استطاعت کے حساب سے کھانا کھا کے رخصت ہوجاتا تھا۔
کچھ دیر بعد جب ہجوم منتشر ہونے لگا اور صرف چند ایک لوگ ہی بیٹھے رہ گئے جن کا آنے کا مقصد محض پیٹ کی بھوک مٹانا نہیں تھا بلکہ وہ تو اپنی ذات کے عرفان’ خود شناسی’ علم و گیان اور اپنے وجدان کو جلا بخشنے کی حسرت لئے آئے تھے۔ جب بیٹھے بیٹھے یہ اشتہا بڑھنے لگی تو آنے والوں کو سوال کرنے جیسے مشکل مرحلے سے گزرنا پڑا اورپھر یہیں سے وہ جھرنے بہنا شروع ہوئے کہ جس سے ہر کوئی اپنی اپنی بساط اور اپنی اپنی فہم کے حساب سے جتنا چاہے سیراب ہو لے۔
وہیں ہم سے یہ پوچھنے کی جسارت ہوئی کہ آنے والے سائل کو درکار تمام ظاہری اور ضروری اسباب دے کر بھی دعا پہ اتنا زور کیوں؟ تو یہ عقدہ اس دن کھلا کہ دعا ہی اس ساری مادیت میں ‘اصل’ ہے۔ باقی تمام اسباب اور حیلے ہمیں اور ہمارے جیسوں کے ایمان کو تقویت دینے کے لئے ہوتے ہیں کہ دل میں کوئی کھوٹ اور وسوسہ نہ آئے اور معمولی ہی سہی لیکن یقین کسی طور قائم رہے۔ تو کڑیوں سے کڑیاں ملاتے بدھی میں یہ بات آئی کہ جیسے فرمایا گیا کہ دعا ہی واحد چیز ہے جو تقدیر کو بدل سکتی ہے۔ تو وہاں یہ کانسیپٹ اپنی پوری شفافیت اور اصلیت کے ساتھ ایسا واضح ہوا کہ اندر کے بہت سارے خدشات اور چند ایک طبق پوری طرح روشن ہو گئے۔
موجودہ حالات و واقعات کے تناظر میں یہ واقعہ بڑی شدت سے دماغ کے کینوس پہ ابھرا کہ فی الوقت ہمیں دعا کی اشد ضرورت ہے۔ خلقت پہلے بھی پریشان ہوتی تھی لیکن ابھی موجودہ اور اللہ جانے کب تک جاری رہنے والی اس پریشانی سے عوام کا ایک بڑا حصہ ادھ موا ہو چکا ہے۔ کوئی نعرہ اور کوئی بھی مبہم عمل اس آفت سے نہیں بچا سکتا البتہ ایک واحد آسرا دعا کا ہی بچتا ہے اور ماہِ رمضان میں اس کا خصوصی اہتمام یقیناً ہم سب کے لئے کارآمد اور مفید ثابت ہوگا۔
توصیف رحمت

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے