دعا آثار شمعیں دے گیا ہے

دعا آثار شمعیں دے گیا ہے
ملنگ آیا کھجوریں دے گیا ہے
عجب اک گفتگو کا آئینہ تھا
جو بے شکلوں کو شکلیں دے گیا ہے
کسی نے بوٹ اپنے دے دئے تھے
کوئی آ کر جرابیں دے گیا ہے
اسے بوسہ بھی دینا چاہئے تھا
وہ جب ماتھے کو شکنیں دے گیا ہے
ہوا کا آخری طوفانی جھونکا
دئے کو اور سانسیں دے گیا ہے
تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے آگے
ستارا ،،، ساری خبریں دے گیا ہے
سخی آیا ہوا تھا کچے گھر میں
سمندر اپنی لہریں دے گیا ہے
عاطف کمال رانا

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے