دوستوں کے درمیاں ہوتے ہوئے

دوستوں کے درمیاں ہوتے ہوئے
ہم یہاں کب ہیں یہاں ہوتے ہوئے
طعنہ زن اک تو نہیں دنیا بھی ہے
اور ہم چپ ہیں زباں ہوتے ہوئے
دشمنوں سے دھوپ کیوں مانگے کوئی
دوستی کا سائباں ہوتے ہوئے
شعلۂ غم آتشِ دل جو بھی ہو
وقت لگتا ہے دھواں ہوتے ہوئے
خاک ہونے کا تماشا کیا کریں
دشت کا دل میں سماں ہوتے ہوئے
تشنگی کا پاس رکھا ہے سعید
صحبتِ پیرِ مغاں ہوتے ہوئے
سعید خان

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے