دوسرا راستہ

دوسرا راستہ

نیم خمیدہ ، قوسی، محرابی رستوں پر چلتا چلتا
ایسے موڑ پہ آ پہنچا ہوں
جس سے دو شاخوں میں رستہ بٹ جاتا ہے
دونوں رستے جیسے استقبال کو میرے بچھے ہوئے ہیں
پہلا رستہ نرم، ملائم لہجے میں مجھ سے کہتا ہے
دیکھو اپنے ٹوٹے پاؤں، دریدہ تلوے
انگ انگ میں سو جنموں کی دوڑ دھوپ کی تھکن، ماندگی کو پہچانو
اپنے قدم بڑھاؤ مخمل جیسے مجھ ہموارراستے کی چھاتی پر
تم کو ابدی نیند ملے گی
سو جاؤ گے!
دوسرا رستہ کانٹوں جیسے چبھنے والے
لہجے میں مجھ سے کہتا ہے
خار و خس سے لدا ہوا میں
اونچا نیچا، ٹیڑھا میڑھا
اس دشوار گذار بڑھاپے کا رستہ ہوں
جس پر تم کچھ سال ابھی چل سکتے تو ہو
لیکن مجھ پر چل سکنا آسان نہیں ہے
ہمت ہے تو پاؤں بڑھاؤ!

میں سیلانی
حاجی، زائر….طائف، آوارہ، بنجارا
سیمابی رفتار سے چلتا
دوسرے رستے پر بڑھتا، خود سے کہتا ہوں
دیکھوں تو پیری کا رستہ
کتنا مشکل یا آساں ہے!!

ستیا پال آنند

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے