دوسراآسمان (بیرونِ ملک مقیم ہم وطنوں کے لیے)

کہاں کے پھول تھے ہم
کس جگہ کھلے آ کر
دہک رہی ہے جو خوشبو ہمارے سینوں میں
نہ اِ س کی صبح تمنّا نہ اُس کی شامِ جمال
بس ایک رنگِ قفس حلقۂ ملال میں ہے
نہ جانے کون، کہاں، کس رُخِ خیال میں ہے
عذابِ جاں ہے مگر انگلیوں کے جال میں ہے
لہو کی گرم تہوں میں جمے ہوئے ہیں جو خواب
انھیں کے بیچ کہیں
اگرچہ دوڑتی پھرتی ہیں ان کی تعبیریں
مگر یہ پاؤں کا چکر عجیب چکر ہے
کہ آب و دانہ و مال و منال کا جادو
کسی کو ایک جگہ پر ٹھہرنے دیتا نہیں
گھروں سے دُور، دلوں کے سوادِ برزخ میں
بھٹک رہے ہیں سرِ دشتِ لازوال کہ اب
زمین پاؤں کے نیچے رہی نہیں اپنی
اور آسمان کاسایہ اُتر گیا سر سے
ایوب خاور 

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے