دور سے دیکھنے والے کا گماں ہوتا ہے

دور سے دیکھنے والے کا گماں ہوتا ہے
خاک پر ورنہ کہاں آبِ رواں ہوتا ہے

اس اداسی میں ترے جسم کا نو خیز گلاب
جیسے صحرا میں کوئی میٹھا کنواں ہوتا ہے

پیار کا پھول ہر اک دور میں تازہ رہے گا
رخ بدلتا بھی ہے دریا تو رواں ہوتا ہے

بعض اوقات بدن اوڑھ کے ڈر جاتا ہوں
مجھ کو ملبوس میں بھی تیرا گماں ہوتا ہے

اپنے سائے میں مجھے بیٹھنے دیتا ہی نہیں
پیڑ جو بھی مرے پہلو میں جواں ہوتا ہے

خامشی چھوڑ گئی کیسی نمی ہونٹوں پر
لفظ کی آگ جلاتا ہوں دھواں ہوتا ہے

اس کا مطلب ہے یہاں غم کی کوئی قدر نہیں
جس کو بھی دیکھو وہی محوِ فغاں ہوتا ہے

لیٹ جاتا ہوں روایات کی دیوار کے ساتھ
لوگ کہتے ہیں یہاں عشق جواں ہوتا ہے

حسن ہر رنگ میں تحسین کے لائق ہے منیر
پیڑ سوکھا ہو تو عبرت کا نشاں ہوتا ہے

منیر جعفری

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے