دور کہیں تارا ٹوٹا تھا

دور کہیں تارا ٹوٹا تھا
سویا رستا جاگ گیا تھا
سر پر تاج نہ دل میں نخوت
وہ کس دیس کا شہزادہ تھا
لہریں لیتے اس پانی پر
شیشے کا اک فرش بچھا تھا
ایک کنارے پر میں ششدر
دوسری جانب تو بیٹھا تھا
بیچ میں پھیلی ساری دنیا
تیرا میرا ملنا کیا تھا
تیری آنکھیں کیوں بھیگی تھیں
ہجر تو میرے گھر اترا تھا
دھوپ ہوئی تھی شہر سے رخصت
اندھیارا امڈا آتا تھا
سرد ہوا کا بازو تھامے
چاند بہت خاموش کھڑا تھا
خواب کے اندر نیند بھری تھی
نیند کے دل میں خواب چھپا تھا
آخر کو اک پھول سنہرا
ان ہونٹوں پر مرجھایا تھا
ثمینہ راجہ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے