دو سیاہ آنکھیں

دو سیاہ آنکھیں
بڑی بڑی دو سیاہ آنکھیں
تمہارے چہرے میں کھو گئی ہیں
تمہاری آواز ،چلتے چلتے
یہ چاہتی ہیں کہ اب عبادت، صبح ہو یا شام ہو، مگر ہو،
تمہارا چہرہ۔۔۔ تمہارا چہرہ
جو نیلگوں لہر میں ڈبو دے
مجھے ڈبو دے ، مجھے ڈبو دے
مرے بدن کے تمام کانٹے چنے اور اپنے بھی پاؤں رکھ دے
وفا کے ٹھنڈے سے پانیوں میں
محبتوں کی، روانیوں میں
بڑی بڑی دو سیاہ آنکھیں
تمہارے چہرے میں ،کھو گئی ہیں۔۔۔!!!
فرزانہ نیناں

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے