دونوں آنکھوں کی اک اوک بنائی میں نے

دونوں آنکھوں کی اک اوک بنائی میں نے

پھر بہتے منظر سے پیاس بجھائی میں نے

تم کو شاید اس کا بھی احساس نہ ہو گا

ریزہ ریزہ جوڑی تھی یکجائی میں نے

جیسے کوئی دو دو عمریں کاٹ رہا ہو

جھیلی اپنی اور اس کی تنہائی میں نے

ایک محبت مجھ میں شعلہ زن رہتی تھی

خیر پھر اک دن آگ سے آگ بجھائی میں نے

خود کو راضی رکھنے کی ہر کوشش کرکے

آخر اپنے آپ سےجان چھڑائی میں نے

ان گلیوں میں اور شہروں میں اور باغوں میں

زندہ رکھا اندر کا صحرائی میں نے

میری پونجی اور تھی ،میرے خرچ الگ تھے

خوا ب کمائے میں نے ، نیند اڑائی میں نے

صبح کے تارے تجھ کو بھی معلوم نہ ہو گا

صدیوں جیسی کی تھی شب پیمائی میں نے

اس ماحول میں یہ اتنا آسان نہیں تھا

دیکھو لوگو کنول بنا دی کائی میں

سعود عثمانی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے