Do Roz Mein

غزل
(حفیظ جالندھری)

دو روز میں شباب کا عالم گزر گیا
"بدنام کرنے آیا تھا، بدنام کرگیا”

بیمارِ غم مسیح کو حیران کر گیا
اُٹھا، جُھکا، سلام کیا، گرکے مر گیا

گُزرے ہوئے زمانے کا اب تذکرہ ہی کیا
اچھا گزر گیا، بہت اچھا گزر گیا

دیکھو یہ دل لگی، کہ سرِ رہگزارِ حُسن
اک اک سے پوچھتا ہوں مرا دل کدھر گیا

اے چارہ گرمنا مرے تیغ آزما کی خیر
اب دردِ سر کی فکر نہ کر، دردِ سر گیا

اے میرے رونے والو خدارا جواب دو
وہ بار بار پوچھتے ہیں کون مر گیا؟

شاید سمجھ گیا مرے طولِ مرض کا راز
اب چارہ گر نہ آئے گا، اب چارہ گر گیا

جلوہ دکھا کے چھُپ گیا وہ شوخ اور ہمیں
وقفِ نزاعِ مسجد و بُت خانہ کرگیا

اب ابتدائے عشق کا عالم کہاں حفیظ
کشتی مری ڈبو کے وہ دریا اُتر گیا​

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے