دو مناظر

ایک منظر

راہداریوں میں دھیمی لو میں جگمگاتے قمقمے اور کافور میں گندھے خوشبو دار پاؤڈر سے بنے زمین پر سُرخ رنگ کے دل، داخلی دروازے پر موتیے کی لڑیاں- جھلملاتی، مچلتی ہوئی، تیکھی اور آنکھوں کو خیرہ کر دینے والی روشنیاں، نایاب موتیوں سے جَڑے ہوئے زرق برق لباس، لوبان اور صندل کی خوشبوئیں، نقرئی صراحیوں میں کیوڑہ ملا پانی اور گلاب کی پتیاں، بیش قیمت فانوس، مرمریں شفاف فرشوں پر دبیز مخملی قالین، دیواروں پر آویزاں دیو قامت تجریدی فنِ مصوری کی شاہکار تصاویر، منقش دروازے اور سونے کی تاروں سے سجی چھتیں، نفیس اور عمدہ کڑھائی والے نرم تکیے، خوش آمدید کہنے والوں کی بیتابیاں، خرامِ ناز تلے آنکھوں کی پُتلیاں بچھا دینے والے آرزو مندوں کے مسرتوں سے دہکتے ہوئے چہرے، استقبالی الفاظ کو ذہن میں بار بار دُہراتے مہذب اور تعلیم یافتہ صاحبِ ثروت اور نرم خُو تماشبین، فضا میں نشیلی دُھنین بکھیرتی بدیسی شراب کی خُمار آلود مہک اور فقط ایک مسکراہٹ کے متمنی دلگیر اور ٹھکرائے ہوئے عشاق، رات کی مشفق آغوش اور ستاروں سے کاڑھے آسمان کا دلفریب آنچل، واہ واہ، کیا کہنے، کمال کر دیا، ہائے ہائے، مار ہی ڈالو گی، جیسی مدہوشی سے لبریز آوزیں، دودھ سے پاؤں، خالص سونے سے بنے گھنگھرو، جھومر، غازہ، ہاتھوں کی سبھی اُنگلیوں میں دہکتی ہیرے کی انگوٹھیاں، ایک ادائے دلبرانہ پہ جان تک نثار کر دینے والے پرستار، صندلی بدن کو عرقِ گلاب اور نایاب خوشبوؤں سے غُسل دینے والی نو عمر خادمائیں، نوٹ جلا کر سگریٹ سلگانے کی عادت

دوسرا منظر

شہر کے عقب میں واقع کچے مکانوں پر مشتمل ایک چھوٹی سی بستی، ٹھیڑی میڑھی اور بے ترتیب غیر ہنر مند ہاتھوں سے بنی ہوئی نالیوں میں تیرتی غلاظت، اُکھڑی پُکھڑی سی پَتلی، تنگ و تاریک اور گڑھوں والی گلیاں، اُجڑی ہوئی ویران چوپال جس پہ نحیف اور بھوک سے شکست خوردہ چہروں پر پیلاہٹ کا لیپ کیئے ہوئے چندمعصوم بچے،بھوک سے بے حال اور بلبلاتا ہوا قریب المرگ کُتا، گلی کی نکڑ پر لکڑی کے تختے پر سجی کریانے کی دوکان اور اس پر لٹکے ہوئے پستانوں، مہندی لگے بالوں اور بڑھابے کی حقارت سے دھتکارے ہوئے چہرے والی سیاہ موٹی عورت جسم پر ململ کا دوپٹہ لپیٹے تقریبا برہنہ بیٹھی ہوئی، ٹاٹ کا پردہ، شکستہ دہلیز، بے کواڑ ضرب کا نشان بناتا ہوا بانس کا دروازہ، چھوٹا سا صحن اور اُس میں بنا ہوا مٹی کا چولہا، چند پکی اینٹیوں سے بنا ہوا کُھرا اور اُس پر لگا ہوا ہاتھ والا پانی کا نلکا، قبر سے کچھ بڑا کمرہ نما، زنگ آلود اور کالک سے بھرے شیشوں والی لالٹین، سستا اور غیر معیاری کمپنی کا بنا ہوا کھانسی کا شربت، چاروں طرف جمی کائی والا پانی کا گھڑا اور اُس پر ٹوٹے ہوے کناروں والا مٹی کا پیالہ ، بوسیدہ اور خستہ چارپائی، پُرانا صندوق، کھردری لکڑی سے بنا ہوا ایک سٹول، مختلف جگہوں سے پیوند لگی گھسی ہوئی بستر کی چادر، بناغلاف پچکی ہوئی روئی والا سرہانا، پسینے اور جنسی ہوس کی تسکین کے نتیجے میں نکلنے والے مردوں کے بدبودار مادے سے متعفن ماحول، ایک ادھیڑ عمر بیمار داشتہ کا مضمحل وجود کی ساری توانائی یکجا کرتے ہوئے بیزار مسکراہٹ سے نئے گاہک کا استقبال، ہاتھ سے بستر کی شکنیں درست کرتے ہوئے استفسار کہ  جلدی کرو شام ڈھلنے کو ہے اور میں نے ابھی تک ناشتہ بھی نہیں کیا

محبوب صابر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے