دیا نہیں ہے مجھے چھپ چھپا کے رونے تک

دیا نہیں ہے مجھے چھپ چھپا کے رونے تک
نظر میں اس نے رکھے میرے گھر کے کونے تک
میں کیا بتاؤں کہ بیتے ہیں کیا کڑے موسم
شدید کرب سے گزرا ہوں سنگ ہونے تک
وہ روشنی کی طرح تیز تیز چلتا ہے
گزر نہ جائے کہیں آنکھ میں سمونے تک
کوئی کرے گا نہیں دیکھ بھال پھولوں کی
سب اہتمام بہاراں ہے بیج بونے تک
تباہ تو نہیں کرتا تمام نیند مری
مجھے یہ درد جگاتا ہے صرف سونے تک
کہاں وہ مسلک پاکیزگی رہا عاصمؔ
ہے اب تو مشق وضو دست و پا کو دھونے تک
ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے