ڈائرکٹر کرپلانی

ڈائرکٹر کرپلانی

ڈائرکٹر کر پلانی اپنی بُلند کرداری اور خوش اطواری کی وجہ سے بمبئی کی فلم انڈسٹری میں بڑے احترام کی نظرسے دیکھا جاتا تھا۔ بعض لوگ تو حیرت کا اظہار کرتے تھے کہ ایسا نیک اور پاکباز آدمی فلم ڈائریکٹر کیوں بن گیا کیونکہ فلم کا میدان ایسا ہے جہاں جا بجا گڑھے ہوتے ہیں ان دیکھے گڑھے، بے شمار دلدلیں، جن میں آدمی ایک دفعہ پھنسا تو عمر بھر باہر نکلنے کا راستہ نہیں ملتا۔ ڈائرکٹر کرپلانی کامیاب ڈائرکٹر تھا۔ اس کا ہر فلم باکس آفس ہٹ ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ سب فلم ساز اس کی خدمات حاصل کرنے کے لیے بیتاب رہتے۔ مگر وہ لالچی نہیں تھا۔ ایک فلم بنا کر وہ دو تین مہینے کے لیے پنج گنی یا روناولہ چلا جاتا اور اپنے آئندہ فلم کی کہانی اور منظر نامے بڑے اطمینان سے تیار کرتا رہتا۔ وہ رہنے والا سندھ حیدر آباد کا تھا۔ سفید ٹول کی قمیص اور سفید زین کی پتلون کے علاوہ اور کوئی لباس نہیں پہنتا تھا۔ شام کو چھ بجے ایک بوتل بیئر کی پیتا لیکن اگر شوٹنگ رات کو ہو تو یہ بوتل اُس کے کمرے میں پڑی رہتی تھی۔ نشے کی حالت میں کام کرنا پسند نہیں کرتا تھا اس لیے کہ وہ یہ سمجھتا تھا کہ نشہ انسان کے ذہنی اعصاب کو برقرار نہیں رکھ سکتا۔ فلمی دنیا میں عشق معاشقے عام ہوتے ہیں۔ آج اگر ایک ایکٹرس کسی ڈائرکٹر کے پاس ہے تو دوسرے روز وہ کسی اور ڈائرکٹر کی بغل میں ہو گی۔ وہاں سے پھسل کر وہ شاید کسی نواب یا راجہ کی گود میں چلی جائے۔ سیلو لائڈ کی یہ دنیا بڑی نرالی ہے۔ یہاں دُھوپ چھاؤں کی سی کیفیت رہتی ہے۔ جن دنوں کی میں بات کر رہا ہوں۔ ایک ہی دن میں کئی وارداتیں ہوئی۔ ایک ایکٹرس اپنے شوہر کو چھوڑ کر کسی اور کے ساتھ بھاگ گئی، پتی دیو صاحب جس سے ملتے اُس کے سامنے اپنی بدقسمتی کا رونا روتے۔ ایک ڈائرکٹر نے اپنی بیوی کو زہر دے کر مار ڈالا۔ دوسرے نے محبت کی ناکامی کے صدمے کی تاب نہ لاتے ہوئے خود کشی کر لی۔ ایک ایکٹرس کے حرامی بچہ پیدا ہوا۔ ڈائرکٹر کرپلانی یوں تو اسی دنیا میں رہتا تھا مگر سب سے الگ تھلگ۔ اس کو صرف اپنے کام سے غرض تھی۔ شوٹنگ ختم کی اور اپنے خوبصورت فلیٹ میں واپس چلا آیا۔ اسے کسی ایکٹرس سے جنسی تعلقات پیدا کرنے کی کبھی خواہش ہی نہیں تھی۔ ایک مرتبہ مس۔ نے اس سے رغبت کا اظہار کیا، کرپلانی اُس کو علیحدہ کمرے میں ڈائلاگ کی ری ہرسل کرا رہا تھا کہ اس ایکٹرس نے اس سے بڑے دلبرانہ انداز میں کہا

’’کرپلانی صاحب ! آپ پر سفید کپڑے بہت پھبتے ہیں، ۔ میں بھی اب سفید ساڑھی اور سفید بلاؤز پہنا کروں گی۔ ‘‘

کرپلانی نے جس کے دماغ میں اس وقت فلمائے جانے والے سین کے ڈائلاگ گھسے ہوئے تھے اُس سے کہا

’’ہاں۔ مگر سفید چیزیں بہت جلد میلی ہو جاتی ہیں‘‘

’’تو کیا ہوا؟‘‘

’’ہوا تو کچھ بھی نہیں۔ لیکن تمھیں کم از کم چودہ پندرہ ساڑھیاں اور اسی قدربلاؤز بنوانے پڑیں گے‘‘

ایکٹرس مسکرائی

’’بنوالوں گی۔ آپ ہی لے دیں گے۔ ‘‘

کرپلانی چکرا گیا۔

’’میں۔ میں آپ کو کیوں لے کر دوں گا۔ ‘‘

ایکٹرس نے کرپلانی کی قمیض کا کالر جو کسی قدر سمٹا ہو تھا، بڑے پیار سے درست کیا

’’آپ میرے لیے سب کچھ کریں گے۔ اور میں آپ کے لیے‘‘

قریب تھا کہ وہ ایکٹرس کرپلانی کے ساتھ چمٹ جائے کہ اُس نے اُس کو پیچھے دھکیل دیا اور کہا

’’خبر دار جو تم نے ایسی بے ہودہ حرکت کی‘‘

دوسرے روز اُس نے اُس ایکٹرس کو اپنے فلم سے نکال باہر پھینکا۔ دو ہزار روپے اڈوانس لے چکی تھی۔ کرپلانی نے سیٹھ سے کہا کہ وہ روپے اُس کے حساب میں ڈال دے۔ سیٹھ نے پوچھا

’’بات کیا ہے مسٹر کرپلانی‘‘

کوئی بات نہیں ہے۔ واہیات عورت ہے میں اس کو پسند نہیں کرتا‘‘

اتفاق کی بات ہے کہ وہ ایکٹرس سیٹھ کی منظورِ نظر تھی۔ سیٹھ نے جب زور دیا کہ وہ فلم کاسٹ میں موجود رہے گی تو کرپلانی دفتر سے باہر چلا گیا اور پھر واپس نہ آیا۔ کرِپلانی کی عمر یہی پینتیس برس کے قریب ہو گی۔ خوش شکل اور نفاست پسند تھا۔ اُس نے ابھی تک شادی نہیں کی تھی۔ اپنے خوبصورت فلیٹ میں اکیلا رہتا، جہاں اُس کے دو نوکر تھے۔ باورچی اور ایک دوسرا نوکر جو گھر کی صفائی کرتا تھا، اور آرام آسائش کا خیال رکھتا تھا۔ وہ ان دونوں سے مطمئن تھا۔ اُس کی زندگی بڑی ہموار گزر رہی تھی۔ اُسے عورت سے کوئی لگاؤ نہیں تھا مگر اُس کے ہم عصر فلم ڈائرکٹروں کو سخت تعجب تھا کہ وہ عموماً رومانی فلم بناتا تھا جس میں مرد اور عورت کی پر جوش محبت کے مناظر ہوتے تھے۔ اُس کے دوست گنتی کے تھے ان میں سے ایک میں تھا جس کو وہ اپنا عزیز سمجھتا تھا۔ ایک دن میں نے اُس سے پوچھا

’’کرپ، ۔ یہ کیا بات ہے کہ تم کبھی عورت کے نزدیک نہیں گئے، پر تمہارے فلموں پر عشق و محبت کے سوا اور کچھ بھی نہیں ہوتا۔ تجربے کے بغیر تم ایسے مناظرکیوں کر لکھتے ہو، جس میں کیوپڈ ہوتا ہے یا اس کے تیر۔ ‘‘

یہ سُن کر وہ مسکرایا

’’آدمی تجربے کی بنا پر جو سوچے

’’وہ ٹھس ہوتا ہے۔ پر تخیل کے زور سے جو کچھ سوچے، اُس میں حسن پیدا ہوتا ہے۔ فلم سازی فریب کاری کا دوسرا نام ہے۔ جب تک تم انپے آپ کو فریب نہ دو، دوسروں کو نہیں دے سکتے‘‘

اُس کا یہ فلسفہ عجیب و غریب تھا۔ میں نے اس سے پوچھا

’’کیا تم نے تخیل میں کوئی ایسی عورت پیدا کرلی ہے جس سے تم محبت کرتے ہو۔ ‘‘

کرپلانی پھر مسکرایا

’’ایک نہیں سینکڑوں۔ ایک عورت سے میرا کام کیسے چل سکتا ہے۔ مجھے عورت سے نہیں اس کے کردار سے دلچسپی ہے۔ چنانچہ میں ایک عورت اپنے تخیل میں پیدا کرتا ہوں اور اُس کو اُلٹ پلٹ کرتا رہتا ہوں۔ ‘‘

’’اُلٹ پلٹ سے تمہارا کیا مطلب ہے‘‘

’’یار تم بڑے کم سمجھ ہو، ۔ عورت کا جسمانی ڈھانچہ تو ایک ہی قسم کا ہوتا ہے۔ پر اس کا کیریکٹر جدا گانہ ہوتا ہے۔ کبھی وہ ماں ہوتی ہے کبھی چڑیل، کبھی بہن، کبھی مردانہ صفات رکھنے والی، ۔ سو ایک عورت میں تم سو روپ دیکھ سکتے ہو۔ اور صرف اپنے تخیل کی مدد سے۔ میں نے ایک روز اُس کی غیر موجودگی میں اُس کے میز کا دراز کھولا کہ میرے پاس ماچس نہیں تھی، تو مجھے کاغذات کا ایک پلندہ نظر آیا، جو غالباً اس کے تازہ فلم کا منظر نامہ تھا۔ میں نے اُس کو اُٹھایا کہ شاید اس کے نیچے ماچس کی کوئی ڈبیا ہو۔ لیکن اس کے بجائے مجھے ایک فوٹو دکھائی دی جو ایک خوبصورت سندھی لڑکی کی تھی۔ میں اس فوٹو کو نکال کر غور سے دیکھ ہی رہا تھا کہ کرپلانی آگیا اس نے میرے ہاتھ میں فوٹو دیکھی تو دیوانہ وار آگے بڑھ کر چھین لی اور اُسے اپنی جیب میں رکھ لیا۔ میں نے اُس سے معذرت طلب کی۔

’’معاف کرنا کرپ۔ میں دیا سلائی تلاش کررہا تھا کہ یہ فوٹو مجھے نظر آئی اور میں اسے دیکھنے لگا۔ کس کی ہے؟‘‘

اُس نے یہ کہہ کر معاملہ گول کرنا چاہا

’’کسی کی ہے‘‘

میں نے پوچھا

’’آخر کس کی؟۔ اس لڑکی کا کوئی نام تو ہو گا‘‘

کرپلانی آرام کرسی پر بیٹھ گیا

’’اس کے کئی نام ہوسکتے ہیں۔ لیکن وہ رادھا تھی۔ ناموں میں کیا پڑا ہے۔ یہ وہ لڑکی ہے جس سے میں نے عرصہ ہوا محبت کی تھی۔ ‘‘

مجھے سخت حیرت ہوئی

’’تم نے؟۔ تم نے محبت کی تھی‘‘

’’کیوں؟۔ میں کیا محبت نہیں کرسکتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اب محبت کے نام ہی سے دُور بھاگتا ہوں لیکن جوانی کے دنوں میں ہر انسان کو ایسے لمحات سے دو چار ہونا پڑتا ہے جب وہ دوسری صنف میں بے پناہ کشش محسوس کرتا ہے‘‘

میں جاننا چاہتا تھا کہ کرپلانی کو اس لڑکی سے کیسے عشق ہوا

’’یہ کب کی بات ہے کرپ تم نے آج مجھے حیرت زدہ کر دیا کہ تم کسی سے عشق لڑا چکے ہو۔ تمہارے عشق کا انجام کیا ہوا‘‘

کرپلانی نے بڑی سنجیدگی سے جواب دیا

’’بہت افسوسناک‘‘

’’کیوں؟‘‘

’’میں اس سے محبت کرتا رہا، میرا خیال تھا کہ وہ بھی مجھ میں دلچسپی لیتی ہے۔ آخر ایک دن جب میں نے اسے ٹٹولا تو مجھے معلوم ہوا کہ اس کے دل میں میرے لیے کوئی جگہ نہیں۔ اس نے مجھ سے صاف صاف کہہ دیا کہ وہ کسی اور سے محبت کرتی ہے۔ میرا دل ٹوٹ گیا لیکن میں نے اپنے دل میں اس بت کو بھی توڑ ڈالا جس کی میں پوجا کیا کرتا تھا۔ میں نے اُس کو بے شمار بد دُعائیں دیں کہ وہ مر جائے‘‘

میں نے پوچھا

’’کیا وہ مر گئی؟‘‘

’’ہاں اُسے مرنا ہی تھا، اس لیے کہ اُس نے مجھے مار ڈالا تھا۔ اُس کو ٹائی فائڈ ہوا اور ایک مہینے کے اندر اندر چل بسی۔ ‘‘

’’تمھیں اس کی موت کا افسوس نہ ہوا؟‘‘

مجھے افسوس کیوں ہوتا۔ میری آنکھوں میں چند آنسو آئے، بہنے والے تھے کہ میں نے اُن سے کہا بے وقوفو کیوں خود کو ضائع کررہے ہو۔ اور وہ میرا کہا مان کر واپس چلے گئے جہاں سے آئے تھے۔ ‘‘

یہ کہتے ہوئے کرپلانی کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے شاید وہی جو اس کا کہا مان کر واپس چلے گئے تھے۔ میں نے سوچا کہ اب اس معاملے پر اور زیادہ گفتگو نہیں کرنی چاہیے چنانچہ میں اس سے رخصت لیے بغیر چلا گیا اس لیے کہ میرا خیال تھا کہ وہ تنہائی میں رہ کر اپنا جی ہلکا کرنا چاہتا ہے۔ دوسرے روز اُس سے ملاقات ہوئی تو وہ ٹھیک ٹھاک تھا۔ مجھے اپنے ساتھ اسٹوڈیو میں لے گیا وہاں چہک چہک کر مجھ سے اور اپنے ٹیکنیکل سٹاف سے باتیں کرتا رہا۔ یہ اس فلم کی شوٹنگ کا آخری دن تھا۔ اس کے بعد کرپلانی ایڈیٹنگ میں قریب قریب ایک ماہ تک مصروف رہا۔ ریکارڈنگ ہوئی پرنٹ تیار ہوئے، فلم ریلیز ہوا اور بہت کامیاب ثابت ہوا۔ حسبِ دستور وہ پنج گنی چلا گیا اور ڈیڑھ مہینے تک وہاں بڑی پُرسکون اور صحت افزا فضا میں اپنے آئندہ فلم کے لیے کہانی اور اُس کا منظر نامہ تیار کرتا رہا۔ اس کا ایک نئی فلم کمپنی سے کنٹریکٹ ہو چکا تھا کہانی بہت پسند کی گئی۔ اب کاسٹ چننے کا مرحلہ باقی تھا۔ سیٹھ چاہتا تھا کہ ہیروئن کے لیے کوئی نیا چہرہ لیا جائے۔ در اصل وہ پہلے ہی سے ایک خوش شکل لڑکی منتخب کر چکا تھا۔ اس کا ارادہ یہ نہیں تھا کہ اس لڑکی کو ایک دم ہیروئن بنا دے۔ پر جب اس نے کہانی سنی تو اس کی ہیروئن میں اُس کو ہو بہو اُسی لڑکی کی شکل و شباہت اور چال ڈھال نظر آئی۔ اُس نے کرپلانی سے کہا

’’میں نے ایک لڑکی کو ملازم رکھا ہے۔ آپ اسے دیکھ لیجیے۔ آپ کے فلم کے لیے بڑی مناسب ہیروئن رہے گی۔ ‘‘

کرپلانی نے کہا

’’آپ اُس کو بُلائیے میں دیکھ لُوں گا، کیمرہ اور ساؤنڈ ٹیسٹ لینے کے بعد اگر میرا اطمینان ہو گیا تو مجھے کوئی عذر نہیں ہو گا کہ اُسے ہیروئن کا رول دے دُوں۔ ‘‘

دوسرے روز صبح دس بجے کا وقت مقرر کیا گیا۔ کرپلانی کی یہ عادت تھی کہ صبح سویرے ناشتے سے فارغ ہو کر اسٹوڈیو آ جاتا اور ادھر اُدھر ٹہلتا رہتا۔ دس بجے تک وہ نئے اسٹوڈیو کی ہر چیز دیکھتا رہا ساڑھے دس بج گئے اس نے بیئر کی بوتل منگوائی مگر اسے نہ کھولا اس لیے کے اُسے یاد آگیا کہ اُسے نئے چہرے کو دیکھنا ہے۔ گیارہ بج گئے، مگر سیٹھ کا دریافت کیا ہوا نیا چہرہ نمودار نہ ہوا۔ کرپلانی اُکتا گیا اس نے اپنی کہانی کے منظر نامے کی ورق گردانی شروع کر دی اس میں کچھ ترمیم کی اس دوران میں بارہ بج گئے، وہ صوفے پر لیٹ کر سونے ہی والا تھا کہ چپڑاسی نے کہا

’’سیٹھ صاحب آپ کو سلام بولتے ہیں‘‘

کرپلانی اُٹھا۔ سیٹھ کے دفتر میں گیا جہاں ایک لڑکی بیٹھی تھی۔ اس کی پیٹھ اس کی طرف تھی۔ جب وہ سیٹھ کی کرسی کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھا تو دم بخود ہو گیا۔ اس لڑکی کی شکل و صورت بالکل اس لڑکی کی سی تھی جس سے اُس نے عرصہ ہوا محبت کی تھی۔ سیٹھ باتیں کرتا رہا مگر کرپلانی کے منہ سے ایک لفظ بھی نہ نکلا۔ بہر حال اُس لڑکی کو ہیروئن کے رول کے لیے منتخب کر لیا گیا۔ کرپلانی اُس لڑکی کو قریب قریب ہر روز دیکھتا اور اس کا اضطراب بڑھتا جاتا۔ ایک دن اُس نے ہمت سے کام لے کر اس سے پوچھا

’’آپ کہاں کی رہنے والی ہیں‘‘

لڑکی نے جواب دیا

’’سندھ حیدر آباد کی۔ کرپلانی چکرا گیا۔

’’سندھ حیدر آباد کی؟۔ آپ کا نام؟‘‘

لڑکی نے بڑی دلفریب مسکراہٹ سے کہا

’’یشو دھرا‘‘

’’آپ کی کوئی بہن ہے؟‘‘

’’تھی۔ مگر اس کا دیہانت ہو چکا ہے‘‘

’’کیا نام تھا ان کا؟‘‘

’’رادھا ‘‘

کرپلانی نے سہ سنتے ہی اپنے دل کو پکڑ لیا اور بے ہوش ہو گیا۔ اور دوسرے روز اچانک مر گیا۔

سعادت حسن منٹو

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے