دن تو یوں بھی لگے عذاب عذاب

دن تو یوں بھی لگے عذاب عذاب
خوفِ شب خوں سے شب کو خواب، عذاب

اور کیا ہے متاعِ تشنہ لبی؟
دھوپ، صحرا، تھکن، سراب، عذاب

کس کو چاہیں، کسے بھلا ڈالیں؟
دوستی میں ہے انتخاب، عذاب

حسرتِ دید کی جزا، ہجرت!
خواہشِ وصل کا ثواب، عذاب

لمحہ بھر کی محبتوں کے لیے
زندگی بھر کا اضطراب، عذاب

شکریہ، اے خیالِ خلدِ بریں!
ہم پہ ٹوٹے ہیں بے حساب، عذاب

وہ نہیں ہے تو دیکھ بستی میں
اے دلِ خانماں خراب، عذاب

چپ رہے ہم تو دیکھنا محسنؔ
اب کے لائے گا انقلاب، عذاب
٭٭٭
محسنؔ نقوی​

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے