دن نکلتا اور دن کی روشنی میں دیکھتے

دن نکلتا اور دن کی روشنی میں دیکھتے
کس کا سایہ ساتھ بیٹھا ہے ندی میں دیکھتے
جاگ اٹھے گی بدن میں سرخ پھولوں کی مہک
فوٹوئوں کے فولڈر کو فروری میں دیکھتے
کس ستارے تک گئے تھے اور کس رفتار سے
خواب کتنی دیر کا تھا یہ گھڑی میں دیکھتے
جو خدا سب سے بڑا ہے اس خدا کو ووٹ دو
نامور چینل ہیں کس کی بندگی میں دیکھتے
کھوج لینا تھا کہ کس کی معرفت ملتی ہے وہ
کونسا دفتر ہے اسکا مثنوی میں دیکھتے
اک اکیلا گھر تھا اور چاروں طرف تھیں چوٹیاں
سیر کرتے کرتے خود کو سینری میں دیکھتے
فیضان ہاشمی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے