دلوں کے آنگن میں ہم نے لاکھوں وفا کے موتی لُٹا دیئے ہیں

دلوں کے آنگن میں ہم نے لاکھوں وفا کے موتی لُٹا دیئے ہیں
اسی احاطے میں کتنے لمحے ، زمانے کتنے بِتا دیئے ہیں
ہمیں تو لگتا ہے ہر قدم پر ، ہماری منزل یہیں کہیں ہے
کہ ہم نے ہر گام پر وفا کے گلاب اتنے کھلا دیئے ہیں
ہمیں بھی چاہت کی سرحدوں پر ملے تھے خدشوں کے اونچے پرچم
مٹا دیئے ہیں وہ سارے خدشے ، عَلَم وہ سارے جلا دیئے ہیں
نہ کُچھ ہے اوجھل نہ کُچھ نہاں ہے ، سبھی ہے روشن بھی عیاں ہے
گماں کی دھرتی پہ ہم نے اتنے یقیں کے سورج اُگا دیئے ہیں
کسی نے سارے چراغ اپنے جلا کے سونپے تھے آندھیوں کو
کسی نے اِک ہی دیئے کو لے کر چراغ کتنے جلا دیئے ہیں

شازیہ اکبر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے