دل ٹھہرتا نہیں ہے سینے میں

دل ٹھہرتا نہیں ہے سینے میں
جانے کیا مصلحت ہے جینے میں
یہ تمنا، یہ دل معاذاﷲ
آبگینہ ہے آبگینے میں
زخم پر زخم کھائے جاتے ہیں
کس کا دل ہے ہمارے سینے میں
زندگی نے ہزار حجت کی
خون کا ایک گھونٹ پینے میں
موج طوفاں کو دیکھ کر باقیؔ
ناخدا چھپ گیا سفینے میں
باقی صدیقی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے