دل مرا مضطرب نہایت ہے

دل مرا مضطرب نہایت ہے
رنج و حرماں کی یہ بدایت ہے
منھ ادھر کر کبھو نہ وہ سویا
کیا دعا شب کی بے سرایت ہے
اب وہ مہ اور ایک مہ سے ملا
چند در چند یہ حکایت ہے
ہر طرف بحث تجھ سے ہے اے عشق
شکر تیرا تری شکایت ہے
ایسے رنج و عنا میں اودھر سے
پرسش حال بھی عنایت ہے
دہر کا ہو گلہ کہ شکوئہ چرخ
اس ستمگر ہی سے کنایت ہے
مت مراعات غیر رکھ منظور
میرے حق میں یہی رعایت ہے
عاشق اب بڑھ گئے ہمیں چھانٹو
اس میں سرکار کی کفایت ہے
کب ملے میر ملک داروں سے
وہ گداے شہ ولایت ہے
میر تقی میر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے