دل میں پیدا جو حسد ہو جائے

دل میں پیدا جو حسد ہو جائے
یہ لہو وحشی اسد ہو جائے
مجھ کو ہجراں کا سفر کرنا ہے
اے خدا ! شوق رسد ہو جائے
اب سلیقے سے قلم تھاما ہے
زندگی جزری عدد ہو جائے
ان بگولوں کا ٹھکانہ کیا ہو
گر بیاباں ہی بلد ہو جائے
یوں اچانک وہ تڑپ کر پلٹا
جس طرح غیبی مدد ہو جائے
اے ملاقات! ذرا ایسے ٹھہر
یہ جنوں موجِ ابد ہو جائے
وقت ناصر مِرے تلوے چاٹے
عشق گر دل کی سند ہو جائے
ناصر ملک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے