دل کی آس مٹائے کون

دل کی آس مٹائے کون
جلتی شمع بجھائے کون
ان کی بات پہ جائے کون
جھوٹی آس لگائے کون
دو اک ہوں تو بات کریں
دنیا کو سمجھائے کون
ہم حق پر ہی سہی لیکن
ان کی راہ میں آئے کون
وہ داتا تو ہیں باقیؔ
پر دامن پھیلائے کون
باقی صدیقی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے