دل و نگاہ زمیں کی مثال ہو گئے ہیں

دل و نگاہ زمیں کی مثال ہو گئے ہیں
اِدھر بچھے ہیں اُدھر پائمال ہو گئے ہیں
میں دیکھتا ہوں پرندے تو ایسا لگتا ہے
کہ واقعی یہ مرے ہم خیال ہو گئے ہیں
قدم میں خاک اٹھا ¶ں گا اُس گلی کی طرف
دعا کو ہاتھ اٹھانا محال ہو گئے ہیں
ہَوا سے دُور بہت دُور آگیا ہوں میں
کہ یہ چراغ ستارہ مثال ہو گئے ہیں
رُکے ہی کب تھے مسافر کسی جگہ غائر
چلے ہی کب تھے جو رستے نڈھال ہو گئے ہیں
کاشف حسین غائر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے