دل شکستہ ہیں نہ پامال نظر آتے ہیں

دل شکستہ ہیں نہ پامال نظر آتے ہیں
ہم تو ہر حال میں بے حال نظر آتے ہیں
بھر گئے زخم جدائی کے مگر آنکھوں میں
کچھ نشاں ہیں جو بہرحال نظر آتے ہیں
ہنس تو دیتے ہیں مگر جب بھی نظر پڑتی ہے
دل کے شیشے میں نئے بال نظر آتے ہیں
اب وہ منظر جو نگاہوں سے لپٹ جاتے تھے
وقت کی راہ میں پامال نظر آتے ہیں
جیسے ہجرت کے پرندے ہوں مرے خواب سعید
پھول کھلتے ہیں تو ہر سال نظر آتے ہیں
سعید خان

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے