دل پہ دستک عجب گزرتی ہے

قبلہ عارف امام کی زمین میں اشعار انہی کے نام
دل پہ دستک عجب گزرتی ہے
جب دبے پاؤں شب گزرتی ہے
ہاں گزرتی تھی پہلے پٹڑی پر
ریل سینے پہ اب گزرتی ہے
تم اذیت جسے سمجھتے ہو
جسم و جاں پر وہ سب گزرتی ہے
آنکھ کرتی ہے خواب کا ماتم
نیند ڈھا کر غضب گزرتی ہے
تیرگی سے کلام کرتے ہوئے
روشنی بے سبب گزرتی ہے
پھول کھلتے ہیں اس کے آنے پر
میں نہ پوچھوں گا کب گزرتی ہے؟
رنج اٹھاتے ہیں کچھ چراغ ارشاد
جب ہوا بے نسب گزرتی ہے
ارشاد نیازی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے