دل نے دشت آباد کئے ہیں، دل نے کئے گلشن آباد

دل نے دشت آباد کئے ہیں، دل نے کئے گلشن آباد
دل خود بھی آباد ہوا پر دل کے ساتھ دُکھن آباد

سرخ ہوا کو آگ لگا کر نیلا رنگ کیا پیدا
آب اور خاک کو روشن کر کے نام رکھا جیون آباد

جس آواز نے پہلی بار یہ ازل، ابد آباد کئے
اُس آواز کی نسبت سے ہے صحرا کا دامن آباد

میرے ہونے سے رونق تھی، میرے ہونے سے تھا فسوں
جا کے پھر آباد کروں گا میں وہ باغ، عدن آباد

میری نظر کے بوسوں نے اُس چہرے کو گلزار کیا
یعنی مجھ برباد سے اُس کا دل آباد، بدن آباد

چلمن کے اُس پار سے مجھ کو دیکھنے والی آنکھوں نے
جانے مجھ میں کیا دیکھا کہ کر دی وہ چلمن آباد

اُن آنکھوں کی دید سے کامیؔ دیدہ و دل آراستہ ہیں
اُن ہونٹوں کو چھو کے ہوئے ہیں مجھ میں سات سخن آباد

سید کامی شاہ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے