دل مرا سوچ کے اس بات کو ڈر جاتا ہے

دل مرا سوچ کے اس بات کو ڈر جاتا ہے
اپنے پیروں کو بچاٶں تو سفر جاتا ہے

کچھ نہ پوچھو کہ بھلا ہوتا ہے کیا دل کے ساتھ
جب کوٸ عہدِ محبت سے مکر جاتا ہے

جب بھی بچھڑے ہوۓ لمحے مجھے یاد آتے ہیں
دل مرا درد کے طوفان سے بھر جاتا ہے

اس قدر رنگِ زمانہ سے پریشان ہے دل
جب کوٸ پیار سے ملتا ہے تو ڈر جاتا ہے

دور پتھر کا ہے پتھر ہی یہاں جیتے ہیں
نرم دل وقت سے پہلے یہاں مر جاتا ہے

غلطی کوٸ بھی تسلیم نہیں کرتا ہے
جرم ہر کوٸ کسی اور پہ دھر جاتا ہے

کچھ نہیں ملتا محبت میں یہی سچ ہے سحر
پیار کے کھیل میں انسان بکھر جاتا ہے

نادیہ سحر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے