دل مرا چٸیرنگ کراس

دل مرا چٸیرنگ کراس
اک طرف بادیدہ ٕ حیراں
یہ دل شہ دین بلڈنگ کے قریب
شاہراہِ قاٸدِ اعظم پہ استادہ
تھکا ماندہ بدن ، ژولیدہ مُو
پیروں میں کتنی ناتواں صدیوں کا ضعف
اور ہر سُو شور افشاں رونقِ چٸیرنگ کراس
ایک ہنگامِ جلیل
آتی جاتی گاڑیاں جیسے کہ دستِ اسرافیل
شور ہے پرّاں مچلتا
جس طرح قرنا ہو زیرِ تارکول
زندگی
سب ذاٸقوں رنگوں کے دامن میں رواں ہے زندگی
دل مرا چٸیرنگ کراس
کیسے کیسے قافلے گزرے ہیں اس شہ راہ سے
دوستوں کے
جن کے ہاتھوں میں گریبانوں کے بکھرے تار تھے
جو سر بہ سر بازار تھے ،
دشمنوں کے
جن کے بکھرے رتھ فقط ہنگامہ خیز
جیسے جابر کے سیہ لب نغمہ ریز ،
نفرتوں کے
جن کی آنکھیں شعلہ باز اور عطر بیز ،
چاہتوں کے
جن کے ہاتھوں میں زمامِ کاروبار
اک حسابی داٸرے کی قید میں سب کچھ نثار
ہاں مگر اک عنبریں نقشِ کفِ پا آشنا نا آشنا
جو وقت کی اُڑتی ہوٸی اس گرد میں تابندہ ہے
جو عمر کے اس شہرِ خاموشاں میں
اب تک زندہ ہے
ڈھل چکا دن
بجھ گیا سورج سرِ راوی
مسلسل ۔۔۔۔۔۔۔۔ گاڑیوں کی لاٸیٹیں جلنے لگی ہیں
دل مرا چٸیرنگ کراس
آہ روشن کر گٸی کتنے چراغ
اک زدِ تاریکیِ پتھر نژاد
 یونس متین

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے