دل میں وہ درد تھا ہونٹوں پہ دعا پھیل گئی

دل میں وہ درد تھا ہونٹوں پہ دعا پھیل گئی
حبس جب حد سے بڑھا تازہ ہوا پھیل گئی

میں نے بس اتنا کہا میرے حسین آقا ہیں
شام کی فوج سر کرب و بلا پھیل گئی

ہر دریچے سے محبت کے جنازے نکلے
اور پھر شہر میں نفرت کی وبا پھیل گئی

ایک آواز اٹھی سوچ کے زندانوں میں
اور سناٹے میں دلدوز صدا پھیل گئی

بس مری یاد کا آنا تھا اچانک اس نے
ہاتھ آنکھوں پہ دھرے رخ پہ حیا پھیل گئی

آخری بار یوں ان ہاتھوں کو دیکھا میں نے
اڑ کے ان ہاتھوں سے آنکھوں میں حنا پھیل گئی

اشک آنکھوں سے تو ٹپکا بھی نہیں تھا کہ عدید
ماں کی تصویر کے ہونٹوں پہ دعا پھیل گئی

سید عدید

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے