فروری 5, 2023
Asma Faraz
عاصمہ فراز کی اردو غزل

دل میں رہ جاتے ہیں سب لوگ بھلانے والے
ہم ہیں ہر حال میں رشتوں کو نبھانے والے

ہم نے تا عمر تجھے من میں بساٸے رکھا
رنج تو اور بھی تھے دل سے لگانے والے

کیا کوٸی رنگ ہے جو مجھ کو مکمل کر دے
میری تصویر کو رنگوں سے سجانے والے

ایسا لگتا تھا مجھے کھو کے بدل جاٸے گا
آج بھی اس کے ہیں انداز پرانے والے

میری پہچان تو دنیا میں تھی تجھ سے لیکن
اب نٸے ڈھنگ سے جانیں گے زمانے والے

مجھ کو جانا ہے کسی اور ہی منزل کی طرف
اب مجھے یاد نہ کر چھوڑ کے جانے والے

میں نےاِس واسطے اُس آگ کو بجھنے نہ دیا
میرے اپنے تھے مجھے زندہ جلانے والے

عاصمہ فراز

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے