دل میں چاہت ہے تِری آنکھ میں چہرہ تیرا

دل میں چاہت ہے تِری آنکھ میں چہرہ تیرا
سو مجھے لکھنا پڑا آج سراپا تیرا

تیری زلفوں کی قسم آج شبِ چار دہم
رات بھر مجھ کو سناتی رہی قصہ تیرا

تیری آنکھوں کی سُندرتا پہ فلک حیراں ہے
چاند تاروں میں رواں دیکھا ہے دریا تیرا

رات مہکے تھے بہت ہاں تیرے ہونٹوں کے چنار
میرے چہرے پہ چمکتا رہا چہرہ تیرا

موجہء کون و مکاں نے تیرے رُخساروں پر
نشے میں ڈوب کے لکھا ہے قصیدہ تیرا

تیری گردن کی صراحی تیرے سینے کا خمار
میرے ساغر میں چھلکتا رہا نشہ تیرا

شاہِ شمشاد قداں سب تیری قامت پہ فدا
سب کے ہونٹوں پہ رہا ایک حوالہ تیرا

جتنے بھی رنگ ہیں یہ، تیرے ہی انداز ہیں سب
خاکداں پھیل گیا بن کے سراپا تیرا

میری محبوب ترے حسن کی بارش کے سبب
سبزہ و گل نے فقط نام پکارا تیرا

محبوب صابر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے