دل کو کسی سے کوئی سروکار اب نہیں

دل کو کسی سے کوئی سروکار اب نہیں
شاید کہ زندگی کا پرستار اب نہیں

مدت سے منتظر ہے نظر روٹھے یار کی
لیکن یہ سچ ہے دید کے آثار اب نہیں

مجھ سے ترے فراق نے چھینا یے یوں شباب
سولہ سنگھار , شوخیء گفتار اب نہیں

تھاما تھا جس نے ہاتھ زمانے کے سامنے
وہ بھی یہ کہہ رہا ہے مجھے پیار اب نہیں

واپس لی میں نے اپنی محبت کی ہر قسم
آ دیکھ تیری راہ میں دیوار اب نہیں

صد حیف اس زمانہء حرص و عناد میں
کوئی کسی کا مونس و غمخوار اب نہیں

جدّت کے نام پر یہاں بدلے گئے رواج
برسوں سے چل رہی تھی جو دستار اب نہیں

لوگوں نے پارسائی کا اوڑھا ہے یوں نقاب
جیسے کوئی جہاں میں گناہ گار اب نہیں

منزہ سید

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے