دل کی اجڑی ہوئی بستی کو بسایا کرتا

دل کی اجڑی ہوئی بستی کو بسایا کرتا
وہ مرا تھا تو مری بات بنایا کرتا
مجھ پہ ساون کی طرح کاش برستا کوئی
دل کے صحراؤں کی یوں پیاس بجھایا کرتا
جس کی آنکھوں میں اتر آئے تھکن خوابوں کی
تو وہ نیندوں کے سفرپر نہیں جایا کرتا
مجھ کو منزل سے یہی حکم ملا تھا ورنہ
عشق رستے سے نہیں لَوٹ کے آیا کرتا
اپنی چادر میں چھپا لیتا مری ہستی کو
مجھ پہ اے کاش محبت کا وہ سایہ کرتا
مجھ کو پت جھڑ میں بہاروں کے اشارے ملتے
گر وہ پھولوں سے مری صبحیں سجایا کرتا
باندھ لیتی میں اگر قوسِ قزح سے زلفیں
تو وہ بادل پہ مجھے جھولا جُھلایا کرتا
عشق کے درد سے واقف جو زمانہ ہوتا
تو یہ سودا نہ کسی سر میں سمایا کرتا
اس کے دل کو بھی اگر پاسِ وفا ہوتا تو
میری چوکھٹ پہ اسے کھینچ کے لایا کرتا
منزّہ سیّد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے