دل کی بات کیا کروں دل لگی سی ھو گئی

دل کی بات کیا کروں دل لگی سی ھو گئی
بے وفا سے اب تو میری دوستی سی ھو گئی
میری ساہ زلفوں پر اوس اس قدر پڑی
سوچ کی زمین بھی شبنمی سی ھو گئی
بے شمار چہروں کی بھیڑ ہر طرف لگی
یوں لگا یہ دنیا بھی اجنبی سی ھو گئی
میری بات سن کے تو اس طرح خموش ھے
میں نے جو کہی تم سے خامشی سی ھو گئی
تیرے میرے درمیاں یاد بھی جدا نہیں
جو بہم رہی مجھے وہ باہمی سی ھو گئی
ایک میرا گھر جلا لوگ آئے دیکھنے
اس کی سارے شہر میں روشنی سی ھو گئی
جس کی خاطر میں نے اپنے سارے غم بھلا دئیے
وہ خوشی بھی تحمینہ واجبی سی ھو گئی
تہمینہ مرزا

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے