دل کہ تھا درد آشنا تنہا

دل کہ تھا درد آشنا تنہا
جل بجھا اک چراغ تنہا
تجھ سے کیا کیا ہمیں امیدیں تھیں
تُو بھی آئی ہے کیا صبا تنہا
رات کی بیکراں خموشی میں
گیت بُنتی رہی ہوا تنہا
یہ تو اپنا شعار ہے ورنہ
کون کرتا ہے یوں وفا تنہا
دشت سا دشتِ تنہائی ہے رسا
پھِر رہا ہوں غبار سا تنہا
رسا چغتائی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے