دل جس طرف بھی شوق سے

دل جس طرف بھی شوق سے عزمِ سفر کرے
وہ شخص اپنے ڈھنگ سے مجھ کو بسر کرے

خواہش ہے اب کی بار نہ رسم جفا ملے
ایسا ملے جو غم کو میرے مختصر کرے

اچھا بھلا میں ضبط کی آغوش اوڑھ کر
سوتا ہوں پر وہ خواب میں آ پھر نظر کرے

غمخوار جس کو جان کر سونپے ہیں راز دل
وہ ہی ہوا کے دوش پہ سب منتشر کرے

ایسا ملے تو چھوڑ کے جانا بصد خوشی
یادوں میں تیری رات کو رو رو سحر کرے

دل ہی نے تجھ کو چاہا تھا دل ہی ہوا تباہ
دل ہی کے بس میں ہے کہ تجھے درگزر کرے

تاروں کے سنگ جاگ کر روتے ہوئے دل
چھپ چھپ کے ساری خلق سے تجھ تک سفر کرے

دے دو خبر کے پچھلے پہر مرگیا اویس
شاید یہ بات اس کے بھی دل پر اثر کرے

اویس خالد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے